اُرْدُو اَدَب

اُرْدُو اَدَب
پاکستان کی آواز

جمعرات، 14 جولائی، 2016

دوسرا باب: "بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید"



صبح کا وقت تھا اور نسیم کے جھونکے چل رہے تھے کہ مرغانَ سحر نے اپنے نشیمنوں سے نکل نکل کے حسین کو خواب بے ہوشی سے جگایا۔ خمار کی سی کروٹیں بدل کے آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور چاروں طرف مڑ مڑ کے دیکھا مگر زمرد کا کہیں پتا نہ تھا۔ جب معشوقۂ دل ربا کی پیاری اور محبت بھری صورت کسی طرف نظر نہ آئی تو کلیجا دھک سے ہو گیا۔ ناتوانی اور سر پھرنے کی وجہ سے کئی دفعہ گر کے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ آس پاس ہر جگہ دیکھا، ہر طرف نظر دوڑا دوڑا کے ڈھونڈا لیکن نازنین و ناز آفریں زمرد کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آخر ہر طرف سے مایوس ہو کے اور جستجو میں تھک کے موسیٰ کی قبر کے پاس آ کے بیٹھ گیا اور نہایت ہی حسرت و اندوہ کے عالم میں آنسو بہا بہا کے کہنے لگا: "پیاری زمرد تو کہاں گئ؟ آہ! کیا آسمان و زمین کھا گئے یا رات کی پریاں تجھے بھی ساتھ لے گئیں۔"
اتفاقاً موسیٰ کی قبر پر نظر جا پڑی اور یہ دیکھ کے متعجب ہوا کہ کچھ بدلی ہوئی سی ہے اور دو ایک پتھر زیادہ ہیں جو کل شام نہ تھے۔ حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس چٹان پر نظر گئی جس پر موسیٰ کا نام کندہ تھا اور اس کتابے میں بھی کچھ تغیر دیکھ کے غور سے پڑھنے لگا۔ کسی قدر بلند آواز میں اس کی زبان سے نکلا: "موسیٰ و زمرد" اور اس کے ساتھ ہی چیخ مار کے وہ پھر سے بے ہوش ہو گیا۔ غم و اندوہ کے فوری جھٹکے پر طبیعت پھر غالب آئی، ہوش آیا اور دل میں کہا "افسوس وہی ہوا جو زمرد کہتی تھی۔ وہ مر گئی اور میں زندہ ہوں۔آہ! پریاں بڑی ظالم تھیں، اسے مار ڈالا اور مجھے نیم جان چھوڑ گئیں۔ آہ! وہ تو میری جان تھی پھر اس کے بغیر میں کیوں زندہ ہوں؟"
یہ کہہ کے اس چٹان سے سر ٹکرانے لگا جس پر دونوں بہن بھائیوں کے نام کندہ تھے۔ دل میں آئی کہ قبر کھول کے اپنے آپ کو بھی اس میں دفن کر دے۔ بلکہ اس ارادے سے چلا تھا کہ مذہب کے فرشتے نے کان میں کہا: "یہ دین کے خلاف اور مرنے والوں کی توہین ہے۔" فرشتۂ غیب کی یہ آواز سنتے ہی اس نے زور سے چلاّ کے کہا: "تو آہ پھر میں کیا کروں؟" اور یہ کہہ کے زمیں پر گرا اور تڑپنے لگا۔دیر تک تڑپنے اور نالہ و زاری کے بعد اُٹھا اور دوڑ کے موسیٰ کی قبر سے لپٹ گیا جسے اب وہ زمرد کی تربت سمجھتا ہے، اور جس طرح کوئی کسی زندہ شخص کی طرف متوجہ ہو کے باتیں کرتا ہے اسی طرح اس قبر کی طرف خطاب کر کے کہنے لگا:
"پیاری زمرد مرنا میرے اختیار میں نہیں؛ خودکشی حرام ہے اور جینا بے سود و بے مزہ، لیکن کب تک؟ مرنا برحق ہے اور موت ایک دن آنی ہی ہے، پھر اس کا انتظار اسی جگہ کیوں نہ کیا جائے زندگی کے ان باقی دنوں میں تیری قبر میری مونس و جلیس ہو گی اور تیرا خیال میرا بے وفا معشوق۔ بس اب یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا۔ ہائے جس طرح تیرے بھائی نے تجھے اپنے پاس بلایا اسی طرح تو مجھے بلا لے۔ تیری وصیت مجھ سے نہیں پوری ہو سکتی۔ اب میں یہیں کا ہوں۔ کیا عجب کہ ان پریوں کا پھر کبھی ادھر گزر ہو؛ وہ بڑی آسانی سے مجھے تیرے پاس پہنچا دیں گی۔"
دل میں یہ فیصلہ کر لینے کر بعد حسین کو کسی قدر تسکین سی ہو گئی۔ قبر پر سے اٹھ کے نہر کے کنارے گیا؛ پر نم آنکھوں پر پاک و صاف پانی کے چھینٹے دیے، وضو کیا اور قبر کے برابر کھڑے ہوکے چند نوافل ادا کیں۔ پھر بیٹھ کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ زمرد کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا اور ہمیشہ کے لیے یہیں کی سکونت اختیار کر لی۔

حسین نے کچھ ایسے مضبوط دل سے اپنے لیے یہ زندگی اختیار کی تھی اور موت کی دعا مانگنے یا جان ستاں پریوں کے انتظار میں اسے کچھ ایسا مزا ملنے لگا تھا کہ اب اسے نہ وطن یاد ہے اور نہ وہ ارادہ حج۔ زمرد کا خیال اس کا قبلہ ہے اور وہ مشترک قبر اس کی مسجد۔ گھاس پات یا کبھی کبھی چڑیوں کے شکار پر زندگی بسر ہوتی ہے۔اور پیامِ مرگ کا ہر گھڑی انتظار رہتا ہے۔ جب کبھی اندوہ و غم کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو اپنی نازنین معشوقہ کی قبر سے لپٹ کے اور رو دھو کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔
اس حالت میں رہتے اور موسیٰ اور زمرد کی تربت کا مجاور بنے اسے چھ مہینے گزر گئے۔ جاڑوں کا پورا موسم ان پہاڑوں پر بسر ہوا، جہاں ایک عرصے تک ان مظلوم شہیدان حسرت کی قبر پر برف کی چادر چڑھی رہی۔ موسم کی سخت سردی اور برف باری اس نے صبر شکر کے ساتھ جھیل لی۔ اب بہار کا زمانہ ہے اور ہر طرف پہاڑوں کے پہلو، نشیبی وادیاں اور یہ سارا مرغ زار پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہوا کے جھونکے ہمیشہ معطر اور مشکبار رہتے ہیں اور دل کا ولولہ ساعت بہ ساعت زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ حسین کا غم اب پہلے سے زیادہ جوش و خروش پر ہے۔اب اس بہار کو دیکھ کے اسے پریوں کے آنے کا زیادہ یقین ہے، اور ان ظالم پری وشوں کے انتظار میں بے صبری اور بے چینی پیدا ہو چلی ہے: "افسوس! موسیٰ اور زمرد کا کام تو پریوں نے ایک ہی دن میں تمام کر دیا اور میں ایسا بدنصیب ہوں کہ انتظار ہی انتظار میں چھ مہینے گزر گئے اور وہ کیوں ادھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔"
ایک دن صبح کو سو کے اٹھا تو خلاف معمول زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملا۔ حیرت و شوق سے دوڑ کے اسے اٹھایا اور پڑھاتو چند لمحے تک نقشِ حیرت بنا کھڑا رہا بار بار تحریر کو غور کر کے دیکھتا اور کہتا: "نگاہ تو نہیں غلطی کر رہی؟"۔ مگر ساعت بہ ساعت یقین پختہ ہوتا جاتا کہ خاص زمرد کے ہاتھ کی تحریر ہے۔ اس خط کی عبارت یہ تھی:
"حسین! میں اس عالم میں نہایت خوش ہوں۔ یہاں کی مسرتیں تیرے وہم و قیاس سے بالا ہیں۔ میں اسی باغ فردوس میں ہوں جس کا قرآن اور تمام کتب سماوی میں ہر مسلمان اور خدا شناس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ سب لذتیں خدا کی مہربانی سے مجھے حاصل ہیں۔ زہرہ و مشتری جن کے حسن کی شعاعیں تجھے دور سے نظر آتی ہیں میرے مونس و جلیس ہیں۔ ان کا قصہ تو سن چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس عالم نور اور اس مرکز لاہوت کی مسرتیں کتنی دل فریب ہیں کہ انھیں ہاروت و ماروت کی جاں بازی کا خیال بھی نہیں آتا۔مگر میں یہاں بھی تیرے لیے حیران اور تجھ سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ فرشتوں اور دیگر آسمانی روحوں کے ذریعے مجھے برابر معلوم ہوتا رہا کہ تو میری قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔ وہ مادی کشش جو ایک عرصے تک روح کو عالم عناصر کی طرف متوجہ رکھتی ہے، مجھے بارہا میری قبر پر لے گئی۔ میں نے تجھے اپنی قبر سے لپٹ کے روتے دیکھا اور خود بھی گھنٹوں تیرے ساتھ کھڑی ہو کے رویا کی۔مگر افسوس نہ تیری دنیاوی آنکھیں میری صورت دیکھ سکتی تھیں اور نہ تیرے مادی کان میرے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔ تو ناحق موت کا منتظر ہے ؛ ابھی تجھے بہت دنوں دنیا میں رہنا ہے۔ وہ وقت دور ہے جب کہ مجھے تیرے وصال کی خوشی حاصل ہو گی۔ وہ باغ جہاں تو ہے پریوں کا نشیمن تھا مگر تیرے سبب سے وہ وہاں نہیں آ سکتیں اور چوں کہ ابھی تیرے مرنے کا وقت نہیں آیا، لہٰذا تجھے قتل بھی نہیں کر سکتیں۔۔ یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنے تفریح گاہ کو تجھ سے خالی نہیں کروا سکتیں۔ مجبوراً خود ان ہی کو اپنا نشیمن چھوڑ دینا پڑا۔ افسوس تو نے میری وصیت پر عمل نہ کیا۔ بدنام کرنے والے اور میرے نام پر تہمت لگانے والے اسی طرح ذلیل کر رہے ہیں۔ جن کے الزاموں کا طومار مجھے بہت ستاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے پھر اپنی وصیت یاد دلاتی ہوں اور نہایت ہی آرزو کے ساتھ کہتی ہوں کہ جا اور میری وصیت پوری کر۔
تجھ سے دور اور تیری دل دادہ — زمرد
حسین نے ہزارہا دفعہ اس خط کو پڑھا۔ اس کے طرز تحریر اور الفاظ کوٍ قریب سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھا، کسی طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مضمون کیا ہے۔ایک دفعہ گھبرا کے بولا: "کیا زمرد زندہ ہے "پھر آپ ہی کہنے لگا، "نہیں، یہ ممکن نہیں اور وہ خود ہی لکھ رہی ہے کہ دوسرے عالم میں ہے اور فردوسَ بریں کی سیر کر رہی ہے۔ پھر یہ خط کیوں کر آیا اور کون لایا۔" دیر تک غور کرتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دل میں آئی کہ زمرد کی ہدایت کے بموجب واپس چلا جائے مگر پھر آپ ہی بولا؛ "نہیں، یہ بالکل بے حاصل ہو گا۔ اول تو وہاں تک جایا کس سے جائے گا اور با لفرض اگر جاؤں بھی تو اس قصے کا یقین کس کو آئے گا؛ سب مجھے جھٹلا کے بے وقوف بنائیں گے۔ نہیں میں نہیں جا سکتا۔ اب تو میں عہد کر چکا کہ زندگی کے باقی ماندہ دن اسی قبر اور زمرد کی یادگار کے پاس بسر کروں گا۔ زمرد کہتی ہے کہ ابھی مجھے بہت دنوں ایڑیاں رگڑنا ہیں؛ بہتر؛ رگڑوں گا، اور جہاں تک جھیلا جائے گا جھیلوں گا۔ اس جگہ ایڑیاں رگڑنا بھی زمانے کی خاک چھاننے سے اچھا ہے۔افسوس زمرد دل میں خفا ہو گی کہ اب بھی اس کی وصیت نہ پوری کی، لیکن میں اپنے عذرات پیش کیے دیتا ہوں۔ جو فرشتے میری روز روز کی خبر اس تک پہنچاتے ہیں، میرا عذر بھی اس کے گوش گزار کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ کھڑی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میری باتیں اپنے کانوں سے سن رہی ہو۔ممکن کیا معنی بالکل قریں قیاس ہے، اب اپنے خط کا جواب سننے ا س کی روح ضرور یہاں آئی ہو گی؛ ہاں تو جو کچھ کہنا ہے اسی سے کیوں نہ کہہ دوں۔"
یہ خیال اس کے دل میں جم گیا اور زمرد کی قبر کی دیکھ دیکھ کے یوں کہنا شروع کیا:
"پیاری زمرد! نہ میں اس عالم نور میں ہوں جس میں تو ہے اور نہ میرے پاس وہ نورانی نامہ بر ہیں جو مجھ خاکی پیکر کا خط تجھ تک پہنچا دیں۔ اپنی نورانی اور نوری توجہ سے کام لے اور خود میری زبان سے میرا عذر سن۔ او حور وش اور خود مقبولِ الٰہی نازنیں! او غواص دریائے رموز وحدت و کثرت! کیا عجب کہ اپنے نور اور تجرد کی آنکھوں سے تو اس وقت میری ستم زدگی کا تماشا دیکھ رہی ہویا یہ میری آہ و زاری کی جگر دوز آواز تیرے روحانی کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ زمرد! مجھے ان لوگوں کے پاس نہ بھیج جن کے فہم و ادراک سے تیری نورانیت اور تیری مقبولیت اور معصومیت کا قصہ بالا تر ہے۔ وہ میرے کہنے کو سچ نہ مانیں گے، لہٰذا اپنے عشق میں مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچا اور اگر بارگاہ لم یزل میں تیری آواز کچھ بھی اثر رکھتی ہو تو مجھے کوشش کر کے اپنے پاس بلا۔ ان پریوں کو بھیج اور جلدی بھیج کہ اپنے تفریح گاہ کو مجھ سے خالی کر لیں۔ میری روح تیرے شوق میں ایک ذبح کیے ہوئے طائر کی طرح تڑپ رہی ہے اور اس مادی پنجرے سے نکلنے کے لیے پھڑکتی ہے۔ او محبت والی نازنین! مجھے کہیں اور نہ بھیج بلکہ اپنے پاس بلا۔"

اس قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حسین کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ بے تاب ہو کے زمین پر گرا اور لوٹنے اور تڑپنے لگا۔ اور جب ناتوانی زیادہ ہوئی تو قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہو گیا۔ اس اس خط نے اس کا جوش بڑھا دیا تھا اور اس کے دن پہلے سے زیادہ غم و اندوہ میں گزر رہے تھے۔ زمرد نے عالم سروشستان سے جو مراسلت کی تھی اس نے دل کے جذبات یکایک ابھار دیا تھا۔ روز مینونشین معشوقہ کو خواب میں دیکھتا اور روز ایک نیا خیال پیدا ہوتا۔ شاید عالم آخرت کا اتنا علم الیقین کسی مسلمان کو کم ہو گا جتنا کہ فی الحال حسین کو تھا۔دنیا ا س کی نظر میں ہیچ تھی اور اپنے آپ کو عالم نور و ظلمت کے مابین ایک برزخ میں پاتا اور بے صبری و خود فراموشی کے ساتھ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس مادی اور جسمانی جامے کو چاک کر کے عالم نور میں جا پہنچے۔جواب دیے کو بھی ایک مہینہ ہو گیا، جس کی ہر گھڑی زمرد کے نئے خط کے انتظار میں گزری تھی، آخر انتظار کا زمانہ ختم ہوا ور ایک اور خط ملا جس کا مضمون یہ تھا:
اے محبوس ظلمت کدہ ارض! میری جستجو میں تو حد سے گزرتا جا تا ہے۔ اور یہ نہ سمجھ کہ مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ میرے تعلقات تیرے ساتھ روحانی تھے۔ اور یہی سبب ہے کہ اس عالم میں بھی جہاں ہر طرف مسرتیں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور خداوند جل و علا نے ایک خاص بعد از فہم و ادراک لذت میرے دل میں پیدا کر دی ہے میں تیری طرف سے اپنا خیال نہیں ہٹا سکتی۔ تیری یاد میں یہ روحانی لذتیں بھی میرے دل سے غم کا کانٹا نہیں نکال سکتیں۔
خیر اب تو نے پورا امتحان دیا ہے اور کوئی چیز تیرے دل سے میرا خیال نہیں نکال سکتی۔ تو مایوس نہ ہو اور مجھ سے ملنے کا سامان کر۔ یاد رکھ کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں تو مجھے پا سکے گا۔ میں تجھ سے قریب بھی ہوں اور دور بھی ہوں لیکن جس دروازے سے تو میرے پاس آ سکے گا وہ بہت فاصلے پر ہے اور وہاں تک تو بڑی محنت و ریاضت سے پہنچ سکے گا۔ ا س کام کے لیے تجھے نفس کشی و ریاضت بھی کرنا ہو گی اور بڑے بڑے سفر بھی کرنا پڑیں گے۔ اس طرح بے مرشد وہ رہبر پہاڑوں سے ٹکرانا بے سود ہے، اور نہ اس رونے دھونے سے کچھ ہو گا۔ اگر مجھ سے ملنے کا سچا شوق رکھتا ہے تو اس وادی سے نکل اور کوہ جودی کی مغربی گھاٹی میں ایک بڑا غار ہے جس میں بڑے بڑے خدا شناس لوگ چلہ کشی کر چکے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے مگر مجھے یہاں آ کے معلوم ہوا کہ جس غار میں جناب ابراہیم علیہ اسلام نے کواکب کے طلوع و غروب سے نسخ کر کے خدا کو پہچانا تھا، وہ یہی غار ہے، اب لوگ اس غار کو ارض شام میں بتاتے ہیں لیکن یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا بچپن شام میں نہیں گزرا بلکہ اس سرزمین میں جہاں ان کا وطن تھا اور جہاں نوح علیہ اسلام کی کشتی ٹھہرنے کے بعد ان کی نسل سکونت پذیر ہو گئی تھی۔ اس غار میں تو چالیس دن تک بیٹھ کے چلہ کھینچ اور کوشش کر کہ اس مدت میں ہر چوتھے دن تھوڑی سی نباتی قوت لا یموت پر زندگی بسر کرے۔ یہ بھی ضروری ہی کہ پورے چلے بھر میں صرف ایک صورت تیرے سامنے ہو اور صرف ایک خیال تیرے دل میں۔وہ صورت تو میری ہو اور وہ خیال یہ ان مرشد سے ملنے کا جن کے مریدوں میں شامل ہونے کو تو غار سے نکل کے روانہ ہو گا۔ اس چلے کی تنہائی میں تو اکثر دیکھے گا کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہی ہو؛ مگر خبردار اس خیالی پیکر کے دھوکے میں نہیں آنا۔ کہیں ذرا بھی تیرے قدم کو لغزش ہوئی تو سمجھ لے کہ مجھ سے ملنے کی کوئی امید نہیں۔ چالیس دن کے بعد پچھلی رات کو اس غار اور کوہ جودی کی گھاٹیوں سے نکل کے سرزمین شام کو روانہ ہو اور بغیر اس کے کہ کسی اور جگہ قیام کرے، بہ خط مستقیم شہر خلیل میں جا۔ وہاں کے مشہور تہ خانے میں حضرت یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے جنازے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی آنکھ بچا کے اتر۔ لوگ تجھے روکیں گے مگر ایسی کوشش کر کہ نگہبانوں اور مجاوروں کو خبر نہ ہو اور تو اندر پہنچ جائے۔ چالیس دن تک ان دونوں جنازوں کے درمیان میں بیٹھ کے چلہ کھینچ۔ پھر وہاں سے نکل کے شہر حلب کو جا۔ وہاں محلہ ارامنہ کے عقب میں تجھے ایک چھوٹی سی مسجد ملے گی جو مسجد الشاسمین کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں جا کے ٹھر۔ دوسرے ہی دن نماز فجر کی جماعت میں ایک شخص آئے گا جو صوف کے کپڑے پہنے ہو گا۔ اس کے بال لمبے ہوں گے اور ایک سیاہ کملی میں اپنا سارا جسم چھپائے ہو گا۔اس شخص کی چھوٹی ڈاڑھی میں نصف سے زیادہ بال سفید نظر آئیں گے اور اس کا عمامہ سبز ہو گا اس لیے کہ سادات بنی فاطمہ سے ہے۔اس نورستان میں اگرچہ وہ کسی اور معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اس عالم عناصر میں اس کا نام الشریف علی وجودی ہے۔ یہ شخص اگرچہ بالکل منکسرانہ مزاج و وضع کا نظر آئے گا مگر اس کی آنکھوں سے ریاضت و نفس کشی اور جذبات روحانی زیادہ ہونے کی وجہ سے شعلے نکلتے ہوں گے۔ خوب یاد رکھ کہ جب تک تو شریف علی وجودی کے سامنے نہ جا پہنچے گا وہ تیری طرف نہ توجہ کریں گے۔ ان بتائی ہوئی نشانیوں سے تو ان کو پہچان لینا اور ان سے حق کا خواستگار ہونا۔یہی شخص تجھ کو مجھ سے ملا سکتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہماری کامیابی ہے۔ اگر میرا شیدا اور میرا آرزومند ہے تو جب تک مقصد نہ بر آئے شیخ کی خدمت اور غلامی کرنا۔ اگر تو پورے ایک سال تک شریف علی کی خدمت میں رہے گا تو کوئی ایسا موقع ضرور پائے گا جب کہ وہ ایک جوش اور ولولے میں انسان کو ملاء اعلیٰ کی سیر کر دینے کا دعوی کریں گے۔ یہ دعویٰ سنتے ہی ان کے قدموں پر گر کے اپنی دلی آرزو ظاہر کرنا؛ وہ بے شک منظور کریں گے۔ مگر اس کا خیال رہے کہ شیخ کے ہر حکم کی تعمیل خواہ تیری سمجھ آئے یہ نہ آئے بے عذر اور بلا حجت کرنا۔
"بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید"
اگر یہ سب مراحل تو نے طے کر لیے اور شیخ کی اطاعت میں پوری سرگرمی اور گرم جوشی دکھا دی تو جان لے کہ میرا آغوش تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔ تجھ سے زیادہ میں تیرے لیے حیران ہوں۔بس اب جلدی اس وادی اور میری قبر کو چھوڑ اور مجھ سے ملنے کی کوشش میں استقلال و مستعدی دکھا۔
تیری دیدا اور مشتاق
زمرد

حسین اپنے جوش محبت اور وطن و احباب سے متنفر ہو جانے کی وجہ سے زمرد کی پہلی وصیت اور اس کے بعد گزشتہ خط پر عمل نہیں کر سکتا تھا مگر اب اس خط کے بعد ممکن نہ تھا کہ ایک گھڑی بھر کے لیے بھی وہ اس وادی میں ٹھہر سکے۔ زمرد کی محبت اور وفاشعاری یاد آئی، پلے نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ زمرد کی قبر سے رخصت ہوا پھر خط کو کئی بار چوم کے اور آنکھوں سے لگا کے سینے میں دل سے لگا کے رکھا اور کمر باندھ کے چل کھڑا ہوا۔ تنگ و تاریک گھاٹی سے بہ ہزار دشواری سنبھل سنبھل کے نکلا اور اسی مقام پر پہنچا جہاں اپنے اور زمرد کے گدھوں کو درختوں سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا۔دونوں گدھے بندھے ہی بندھے سوکھ سوکھ کے سردی و برف باری کے صدمے اٹھا اٹھا کے مر گر گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں درخت نے نیچے پڑی ہوئی تھیً۔ مگر یہ دیکھ کے وہ حیران ہوا کی قدیم گدھے کے بدلے اب ایک نیا اور تازہ دم گدھا اُسی درخت میں بندھا اور کسا کھڑا ہے۔ خلاف امید اس سواری کو پا کر اس نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس عالم نور کے بہت سے رموز سے اسے اسن دینا میں ہی آشنا کر دیا تھا۔ اور آگے کی راہ لی۔ جہاں تک راستہ خراب اور پیچیدہ تھا وہیں تک تو وہ گدھے کا دہانہ پکڑے ہوئے پاپیادہ گیا اور جب صاف اور کشادہ زمین مل گئی تو اس خدا کی دی ہوئی سواری پر سوار ہو کے سیدھا مغرب کی طرف چل کھڑا ہوا۔ چونکہ اس کوہستان کا سلسلہ بھی مشرق سے مغرب کو گیا ہے لہٰذا اس کے دام ہی دام میں بادیہ پیمائی شروع کی اور دو مہینے کی دشت نوردی کے بعد علاقہ آذر بائیجان کے شہر تبریز میں جا پہنچا۔ جہاں سے کوہ جودی دس بارہ دن کی مسافت پر ہے۔ تبریز ایسا با رونق شہر تھا کہ حسین کے دل میں آئی دو دن ٹھہر کے سیر کر لے مگر زمرد کی تاکید یاد آئی اور بغیر اس کے کہ کارواں سرا میں کمر بھی کھولی ہو، آگے کی راہ لی اور دس روز کر دشت نوردی کے بعد کوہ جودی کی سر بہ فلک چوٹی کے نیچے جا کھڑا ہوا۔
کوہ جودی بہت بلند پہاڑ ہے اور ایران و ایشیائے کوچک بلکہ سلسلہ کوہ قاف کی اکثر چوٹیوں سے زیادہ بلند ہے۔ حسین پہلے ایک بڑا چکر کھا کے اس زبردست اور برف سے ڈھکے ہوئے قلعے کے مشرق پہلو پر نکل گیا اور اس غار کو ڈھونڈنے لگا جس میں اسے چلہ کشی کرنا تھی۔ کئی روز تک چٹانوں اور گھاٹیوں میں ٹکراتے رہنے کے بعد غار ملا۔ دور دور کے گاؤں والے اکثر اس غار کی زیارت اور اس کے تاریک دہانے پر کچھ نہ کچھ چڑھانے کو آتے رہتے تھے جن میں اس کی قدیم برکتوں کے قصے بہت مشہور تھے اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب اس کو حرمت و ادب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھیں گاؤں والوں میں سے ایک زائر کی زبانی حسین کو اس کے حالات معلوم ہوئے اور سمجھ گیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسے اپنی ریاضت و نفس کشی کا امتحان دینا ہے، اور جہاں جناب ابراہیم علیہ سلام نے خدا کو پہچانا تھا۔
دن کو جب حسین اس غار کے دہانے پر پہنچتا ہے اضلاع و جوانب کے چند خوش عقیدہ زائروں کا مجمع تھا۔ شام کو ان کے واپس جانے کے بعد جیسے ہی آفتاب غروب ہوا وہ خدا کا نام لے کر اندر گھسا۔ غار میں جاتے ہی وہ ریاضت میں مشغول ہو گیا اور کوشش کرنے لگا کہ وہاں کی بھیانک تاریکی میں زمرد کی خیالی تصویر کو چراغ بنا کے ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے۔ ہر چوتھے دن پچھلی رات کو نکل کے گھاس اور پتوں سے بھوک کی حدت کم کر لیتا اور پھر اسی خلوت کدے میں جا بیٹھتا۔
آخر چلہ پورا کر کے ہمارے پر جوش نوجوان نے شام کی راہ لی۔ تین مہینے کے سفر کے بعد مقدس خلیل کی عمارتیں نظر کے سامنے تھیں۔ آبادی میں داخل ہو کے سیدھا اس تہ خانے پر پہنچا۔ مگر یہاں نیچے اترنا بہت دشوار تھا اس لیے کہ ہر وقت لوگوں کا مجمع رہتا اور خرابی یہ تھی کہ جو کوئی اس مقدس غار میں اترنے کا ارادہ کرے عام مجاوروں کے عقیدے میں واجب القتل تھا۔ حسین نے اپنے ارادے کو چھپایا اور مجاورین کو دوست بنا کے اس بات کی اجازت حاصل کر لی کہ اترنے کے راستے کو قریب ہی شب باش ہو۔ کئی راتیں جاگ کے کاٹیں مگر موقع نہ ملا۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہاں پاس ہی شب بیداری کرتے تھے اور ایسا کوئی وقت نہ ملتا جب لوگ مصروف عبادت و دعا نہ ہوں۔ دو تین ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پچھلی رات کو اٹھ کے دیکھا تو میدان صاف تھ، اور جو لوگ تھے، سو رہے تھے۔ چپکے چپکے دبے پاؤں تہ خانے کے دروازے پر گیا اور چاروں طرف دیکھ کے جب اطمینان کر لیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو بے تکلف نیچے اتر گیا۔

اس مقام پر جانا بڑی جرأت کا کام تھا۔ ان انبیائے عضام کا رعب ساعت بہ ساعت دل پر غالب آتا جاتا تھا۔ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل دھڑکتا تھا۔ تاہم زمرد کا شوق ان تمام دلی کمزوریوں پر غالب آیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جاتا تھا۔ بار بار اسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فرشتے روک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مقدس جگہ کو اپنے قدموں سے ناپاک نہ کر۔ مگر اس سب خیالات کو مٹا مٹا کے وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھوں اور پاؤں سے ٹٹولتا ہوا تہ تک پہنچ گیا۔ رات کا وقت اور پھر وہ تاریک مقام، حسین نیچے پہنچ کے پریشان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ تو سوجھائی نہیں دیتا ان برگزیدہ پیغمبروں کے جنازے کیوں کر نظر آئیں گے۔ عرصے تک ایک ہی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا۔ اور اب دل مضبوط کر کے آمادہ ہوا تھا کہ ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھے ناگہاں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کی شعاعیں اوپر سے پہنچیں اور وہ ٹھہر گیا کہ روز روشن ہولے تو شاید زیادہ آسانی سے اپنے معبودہ مقام پر پہنچ سکوں گا۔ اور یہی ہوا دن کی روشنی نے اندھیرا کم کر دیا اور اسے کئی لاشیں چبوتروں پر رکھی نظر آئیں جن میں سب کے درمیان میں حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہم سلام کے جسم تھے۔ ان کا انتقال چوں کہ مصر میں ہوا تھا لہٰذا قدیم مصریوں کے مذاق پر ان کی ممیاں بنائی گئی تھیں۔۔ جسم تو گلی تابوتوں میں تھے مگر چہرے کھلے ہوئے تھے جن سے اس تاریکی میں عجیب رعب و جلال برستا نظر آتا تھا۔ حسین یہ مقدس چہرے دیکھ کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور کسی طرح قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ چند لمحے تک مرعوب اور سہما کھڑا رہا، مگر پھر جی کڑا کر کے قدم آگے بڑھایا اور دونوں تابوتوں کے درمیان میں جا کے چپکے سے بیٹھ گیا جہاں دونوں با ہیبت چہرے ہر وقت پیش نظر رہتے۔ اور ان کا رعب اس قدر غالب تھا کہ زمرد کے خیال کو وہ بہت مشکل سے آنکھوں کے سامنے متشکل کر سکتا تھا۔ مگر کوہ جودی کے چلے کی کوششوں نے وہ پیاری صورت زیادہ استقلال سے نظر کے سامنے قائم کر دی تھی۔ اور تھوڑی دیر ہی کوشش سے ان دونوں متبرک چہروں کے درمیان وہ اپنی معشوقہ کا چہرہ دیکھ لیا کرتا تھا۔
الغرض یہاں بھی وہ چلہ کشی میں مشغول ہو گیا۔ مگر یہاں کوہ جودی کے غار کی طرح یہ ممکن نہ تھا کہ کسی وقت نکل کے قوت لایموت حاصل کر لے۔ اس کا اسے پہلے ہی سے خیال تھا اور اس ضرورت سے تھوڑا سا پنیر چادر میں باندھ کر لیتا آیا تھا۔ دو تین ٹکڑے چوتھے دن کھا کر خدا کا شکر گزار ہوتا۔ خدا خدا کر کے یہ چلہ بھی پورا ہوا اور اکتالیسویں رات کو وہ چپکے چپکے اور دبے پاؤں باہر نکلا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو اور وہ حلب کی راہ لے۔ مگر لوگ جاگ رہے تھے جن میں سے بعض اسے پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے غل مچا کے حملہ کیا اور حسین غار سے نکلتے ہی مجاورین کے ہاتھ میں گرفتار تھا۔ ایک بڑی سخت بے ادبی اور گستاخی کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔اور قریب تھا کہ قتل کر ڈالا جائے مگر اتفاق یا اس کی خوش قسمتی شہر خلیل کا حکمران اسی روز ایک باطنی فدائی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ لوگ اگرچہ باطنیہ لوگوں سے ڈرتے تھے مگ یہ اتنا بڑا اہم معاملہ تھا کہ انتقام کے درپے ہو گئے۔ اور باطنیوں کے ایک گاؤں پر تاخت کرنے کا سامان ہی کر رہے تھے کہ باطینوں کا ایک بڑا بھاری گروہ خود ان پر آ پڑا۔سخت قتل و خون ہوا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور اسی بے امنی کی حالت میں حسین مجاوروں کی قید سے چھوٹ کے حلب کو روانہ ہوا۔
آٹھویں دن شام کے وقت حلب میں داخل ہوا۔ راہ گیروں سے پوچھتا ہوا محلہ ارامنہ میں اور پھر مسجد الشماسین میں پہنچا۔ یہاں آتے ہی کمر کھول دی؛ سر شام ہی کچھ کھا پی لے عشاء کی نماز پڑھی اور پڑ کے سو گیا۔ اگرچہ تھکا ماندہ تھا مگر زمرد کے وصال کا شوق سب پر غالب تھا۔ آدھی رات سے زیادہ نہ گزری ہو گی کہ آنکھ کھل گئی اور صبح تک نماز فجر کے انتظار میں کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح کی اذان سے پہلے ہی وضو کر کے تیار ہو گیا اور دروازے پر بیٹھ کے ہر آنے والے کی صورت کا مطالعہ کرنے لگا۔ آس پاس کے مکانوں والے نیند کے خمار میں لّڑکھڑاتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے آتے اور وضو میں مشغول ہو جاتے۔ حسین کو اکثر لوگوں پر شیخ شریف علی وجودی کی صورت کا گمان ہوتا تھا۔ہر آنے والے میں اگر کوئی ایک علامت ہوتی تو اور علامتیں نہ پائی جاتیں۔ آخر دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا اور خود اپنے سے خطاب کر کے چپکے سے کہا: "مجھے یقین نہیں کہ شیخ کو پہچان سکوں"۔ یہ جملہ اس کی زبان سے نکلا ہی تھی کہ اسی حلیے اور وضع کا ایک شخص آیا ا س کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے کھڑا ہو گیا اور مسکرا کے نہایت ہی تسلی و تشفی کے لہجے میں بولا: "حسین! میں جانتا ہوں کہ تو میری تلاش میں آیا ہے "

اتنا سننا تھا کہ حسین قدموں پر گر پڑا اور شیخ شریف علی وجودی کے قدم چوم چوم کے اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھو دھو کے کہنے لگا: "یا حضرت! میری مدد کیجیے۔ صرف آپ ہی کی رہبری سے مجھے حق کا راستہ مل سکتا ہے۔ جس صراط مستقیم پر چل کے انسان خدا اور عالم ارواح کو پہچان سکے وہ صرف آپ ہی جانتے ہیں۔"
شیخ: (جلال میں آ کے) اے بحر وجود اور دریائے وحدت کے ذلیل و ناپاک قطرے! تیرا کیا حوصلہ کہ اس وجود غیر وجوٗد اور اس لاہوت غیر متنوع کی رموز سمجھ سکے؟
(باطنین کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کی طرف کسی صفت کا منسوب کرنا کفر ہے۔ اور بظاہر جو صفات قرآن میں اس مذکور ہیں وہ اس اعتبار سے ہیں کہ یہ صفات اس نے مخلوق کو عطا کیے۔یعنی خدا کو نور کہیں تو منور بصیر کہیں تو مبصر بصیرت دینے والا اور اسی طرح موجود کہیں تو موجود کرنے ولا مراد ہے۔ اسی سے وہ صفات کو منسوب کر کے پھر نفی بھی کر دیا کرتے تھے۔ یعنی کہتے تھے موجود غیر موجود، نور لا نور وغیرہ۔
حسین: بے شک میری کوئی ہستی نہیں مگر جب آپ کے سے شناورِ بحر وحدت کا ہاتھ پکڑ لوں گا تو کیا عجب کہ اس طوفان خیز دریا سے پار ہو جاؤں۔
اور رو رو کے پھر سے شیخ کے قدم چومنے لگا۔

شیخ کا جلال کسی قدر کم ہوا۔ انھوں نے حسین کو ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اپنا سینہ کئی دفعہ خوب روز سے اس کے سینے سے رگڑا اور کہا: "اچھا آ میرے ساتھ چل؛ میں تیرے ضبط و ظرف کا اندازہ کروں گا، اور جب معلوم ہولے گا کہ تیری طلب کہاں تک صادق ہے، اس وقت تجھے اپنے حلقہ ذوق میں شریک کروں گا۔"
حسین نے یہ سن کے شکر گزاری کے طریقے سے سر اٹھایا؛ شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور ان کے ساتھ جا کے نماز میں شریک ہوا۔ نماز کے بعد شیخ علی وجودی اسے اپنی خانقاہ میں لے گئے جو شہر سے فاصلے پر ایک غیر آباد مقام میں تھی۔ حسین کو یہ خیال کر کے تعجب ہوا کہ مسجد شماسین کو کیا خاص تخصیص ہے کہ شیخ وہاں فجر کی نماز ادا کرنے کو گئے تھے۔اس کا راز دریافت کرنے کو پوچھا: "کیا حضرت ہر روز نماز کے لیے اسی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں؟"
شیخ: (لاپروائی سے) نہیں صرف آج ہی گیا تھا! حسین: تو شاید کسی خاص کام کے لیے ادھر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہو گا؟
شیخ: (ذرا ہرہمی سے)"ولا تجسسو (قرآن کی آیت ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کے افعال کی جستجو نہ کیا کرو)!ان رموز معنی کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ اگر سچا شوق ہے تو کبھی خود ہی سارا راز کھل جائے گا۔ اب حرف سوال تیرے منہ سے نکل ہی گیا تو لے بتائے دیتا ہوں۔ سن! جو لوگ خدا کے انوار ازلی و سرمدی کا انعکاس اپنے دل پر کرتے ہیں ان کی آنکھوں سے حجاب کا پردہ گر جاتا ہے۔اور جہاں جہاں وہ نور لا نور اپنی کرنیں ڈالتا ہے وہاں ان کی آنکھوں کی شعاعیں بھی پہنچ جاتی ہیں۔ میرا یہ جسم مادی اسی خانقاہ میں تھا۔مگر ان آنکھوں کی تیز شعاعیں کوہ البرز کے پہلو میں تھیں جب تو زمرد کی قبر سے لپٹا ہوا رو رہا تھا۔ پھر جبل جودی کے غار ابراہیم میں تھیں جب زمرد کی تصویر تیرے سامنے اور میری جستجو تیرے دل میں تھی۔ پھر یہ شعاعیں اس تیرہ و تار تہ خانے میں تھیں جہاں یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے چہروں کے درمیان میں تو زمرد کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے تیری اس بے کسی کو بھی دیکھا جب تو شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں اسیر تھا۔ تیری ہی مدد کے لیے میں نے اپنے دوستوں کو بھیجا۔ انھوں نے شہر والوں پر حملہ کر کے تجھے ادھر آنے کا موقع دیا۔ یہ کہتے وقت شیخ کی آنکھیں اس تیزی سے چمکیں کہ حسین بالکل سہہ نہ سکا اور شیخ کے قدموں پر سر رکھ کے ایک مجذوباتی جوش کے ساتھ کہنے لگا: "آپ سب جانے ہیں کوئی راز آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میری آرزو و تمنا بھی آپ کو معلوم۔۔۔۔۔"


شیخ: (جوش و خروش سے) سب جانتا ہوں، مگر ابھی ا س کے اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس شوق کا تیری زبان سے ظاہر ہونا کسی خاص وقت اور خاص حال و کیفیت ہر موقوف ہے۔ بس اب اس وقت خاموش رہنا چاہیے۔
یہ حکم سن کے حسین اس قدر مرعوب ہوا کہ زمین پر پڑے ہی پڑے کانپنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ نے اسے اٹھا کے بٹھایا۔ سینے اور آنکھوں پر اپنا دست برکت پھیر کے ا س کے دل کو تسلی دی اور کہا: "حسین تو میری خانقاہ میں اور خاص میری صحبت میں رہا کر، اور جس قدر زیادہ خدمت کرے گا اور جس مستعدی سے بلا عذر و حجت میرے احکام کی جو اصل میں احکام الٰہی ہیں کی تعمیل کرے گا اسی قدر جلد کامیاب ہو گا۔ مگر یہ خوب سمجھ لے کہ ابھی تیرا ظرف اور تیرا دل اس قابل نہیں ہوا کا تنوعات ربانی اور انقلابات قدرت کے اسباب و علل سمجھ سکے۔ موسیٰ و خضر کا قصہ ہر وقت پیش نظر رکھنا اور یہ یقین کر لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے، نتائج ہمیشہ باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔ ظاہر پرست رموز قدرت کو نہیں سمجھ سکتے۔ سزا و جزا روح کے لیے ہے جو باطن پر منصرف رہتی ہے اور ہمیشہ دل کے اندر اور نیت پر حکمران ہے۔ یہ ظاہری ارکان و جوارح اسی مادے میں مل جائیں گے اور یہیں رہیں گے۔ لہٰذا اس کی حرکات کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ قاضی و مفتی جاہل و لا نور یزدانی سے دور ہیں جو ظاہری افعال و حرکات پر حکم دیتے ہیں۔ خضر و موسیٰ کے قصے میں اس لاہوت اکبر نے موسیٰ کے کی تائید نہیں کی جو ظاہر پرستی کر رہے تھے، بلکہ خضر کے موافق فیصلہ کیا جو رموز باطنی اور ارادہ صمدانی کو سمجھ رہے تھے۔ اسی طرح دیکھو ابراہیم علیہ سلام نے جب بی بی کو بہن بتایا تو ظاہر پرست بہت بہت گھبرائے کہ پیمبر کی عصمت میں فرق آ گیا۔ مگر ان کی جہالت ہے۔ خدا ابراہیم علیہ اسلام کے دل کو دیکھ رہا تھا۔
الحاصل اے حسین! تو خوب سمجھ لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور خدا باطن کا طرف دار ہے۔ تجھے شیخ اور مرشد کی اطاعت آنکھیں بند کر کے اسی طرح کرنی چاہیے جیسی اطاعت کی خواہش خضر نے موسیٰ سے کی تھی۔ "
حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک میں ایسی ہی اطاعت کروں گا۔ مگر کیا معاصی اور برے کاموں کا بھی بے سمجھے ارتکاب کر لینا چاہیے؟
شیخ: (نہایت ہی جلال کے ساتھ اور آنکھیں سرخ کر کے)کیا تجھے یہ گمان ہے کہ مرشد برے کام کا حکم دے گا؟
حسین: (ڈر کے اور اخلاقی کمزوری کی شان سے) نہیں لیکن ممکن ہے کہ مرید اور عقیدت کیش کو وہ فعل گناہ نظر آتا ہو؟
شیخ: ممکن ہے۔ مگر اس کا باطن گناہ نہیں اور نتائج صرف باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔
حسین: مگر اسی باطن پر جو مرتکب اور کرنے والے کے دل میں ہو۔ میں ایک فعل کا ارتکاب کروں تو اس کے نتائج اسی نیت پر مترتب ہونگے جو میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس کا باطنی اچھا رخ معلوم نہیں تو خواہ مخوہ میری نیت بھی بری ہی ہو گی۔ اور جب میری نیت بری ہو گی تو نتیجہ بھی اس نیت کے مطابق برا ہونا چاہیے۔
شیخ: (ذرا جوش میں آ کے اور آنکھیں سرخ کر کے) تو کیا تیرے نزدیک شیخ کی نیت پر شبہ کیا جا سکتا ہے؟ اور اسی پہلے رازِ لاہوتی کو تسلیم کرنے سے تجھے ان کار ہے؟
حسین: (شیخ کے قدموں پر گر کے) ہر گز نہیں مگر میری یہ باتیں محض اس لیے ہیں کہ "لیطمئن قلبی (قرآن کی آیت ہے تاکہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے)" اور خدا وہ روزِ بد نہ لائے کہ میں شیخ کی نیت پر شبہ کروں۔

یہ جواب سن کے شیخ نے حسین کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ پر شفقت کا ہاتھ پھر کے کہا: "سن! بے شک تیرے دل میں ابھی شکوک آتے ہوں گے مگر اس راہِ باطن میں جو جو قدم آگے بڑھانے کا تجھے نظر آتا جائے گا کہ مرید کی وقعت ایک بے جان آلے سے زیادہ نہیں۔ مرید بعینہ ایک تلوار ہے جس کے قبضے پر شیخ کا ہاتھ ہو۔ اور تو سمجھ سکتا ہے کہ تلوار برے بھلے جس کا سر چاہے اڑا دے۔ مگر الزام یا تحسین کی نسبت تلوار سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ چیزیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں جو اس تلوار کو ہاتھ میں لیے ہو۔ یقین ہے کہ اب تیرا شک رفع ہو گیا ہو گا اور تو سمجھنے لگا ہو گا کہ مرید کے افعال کا باطنی پہلو شیخ کی نیت سے متعلق ہے نہ خود مرید کے ارادے سے۔ جب اس طرح اطاعت و مستعدی دکھا کے انسان ارادت کے مدارج طے کر چکتا ہے اس وقت ارشاد کے درجے کو پہنچتا ہے اور اسی وقت اس کی نیت قابلِ اعتبار اور بنائے نتائج ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ ارادت کے درجے طے کر راہا ہے اس کے ارادوں اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس وقت تک اس کے ہر قول و فعل کا ذمہ دار شیخ اور مرشد ہے۔"

حسین: (جوش و خروش سے شیخ کا ہاتھ چوم کر) بے شک بجا ہے۔ اب میری آنکھوں کے سامنے سے حقیقت کا پردہ اٹھ گیا اور مجھے کسی حکم کی تعمیل میں عذر نہ ہو گا۔
شیخ: "حسین! مرید کے سر پہ بڑی نازک ذمہ داری ہے اس سے زیادہ نفس کشی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے دل اور اپنی عقل کو اپنے افعال سے بالکل الگ کر دے ؛ مگر تو غور کرے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ احکام الٰہی اور رفتار زمانہ کے بالکل موافق ہے۔ جن کاموں کی تعمیل خضر نے کی اور جن میں موسیٰ سے مدد لی ان کا باطنی پہلو صرف خضر کے دل میں تھا اور موسیٰ کی نیت میں وہ قطعی معاصی و گناہ تھے۔ مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے گناہ کیا اور اتنے اتنے بڑے کبائر میں شریک ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؛ محض اس لیے کہ اس عالم باطنی میں خضر مرشد اور موسیٰ مرید تھے۔ اس کی تعمیل خود ظاہر پرستوں میں روز ہوتی رہتی ہے۔ طبیب بظاہر نہایت حار بلکہ سمی دوا دیتا ہے اور مریض اگرچہ اس کے منافع سے بے خبر ہے مگر بلا تامل کھا لیتا ہے اور نتیجہ وہی ہوتا ہے اور وہی سمجھا جاتا ے جو طبیب کی نیت میں ہے۔ ماں باپ لڑکے کو کسی کام پر مارتے ہیں، لڑکا اس کام کو اپنے دل میں اچھا سمجھ کے کرتا ہے مگر ماں باپ اپنے ہی دل اور اپنے ہی خیال کی مضرت کی بنیاد پر مارتے ہیں۔ اور اس مار کا نتیجہ ہر ایک کے نزدیک اچھا۔۔۔۔۔"

یہ تقریر ایسی موثر تھی کہ حسین اس سے زیادہ سننے کی تاب نا لا سکا اور ایک نہایت بے خودی کی وضع سے جوش میں آ کے چلا اٹھا: "بے شک آپ بجا فرماتے ہیں۔ میرے دل کو اطمینان ہو گیا اور کبھی کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔"
اس علم غیب اور اس مدلل تقریر نے حسین کو شیخ علی وجودی کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ اس کی نظر میں اب سوا شیخ کے اور کسی چیز کی ہستی نہ تھی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت شیخ کی آواز گونجتی، اس کی آنکھوں کے سامنے ہر گھڑی شیخ کی تصویر بھرتی اور اس کے دل میں ہر لحظہ شیخ کے احکام کا انتظار رہتا۔ زمرد کی تصویر بھی اب اسی طرح ہمیشہ پیش نظر نہ تھی بلکہ کبھی کبھی خانقاہ کے حجرے میں لیٹ کے وہ زمرد کو خیال کی طرف متوجہ ہو کے کہتا: "پیاری زمرد! تو نے مجھے کہاں بھیجا ہے کہ خود تجھے بھولا جاتا ہوں؟"الغرض اب پورے کمال کے ساتھ اسے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل تھا۔
حسین کو ارادت و عقیدت مندیکے ساتھ شیخ کی خدمت کرنے گیارہ مہینے گزر گئے ؛ اس نمانے میں ایک مرتبہ شیخ تین مہینے کے لیے غائب رہے اور کسی ایسے سفر پر گئے جس کو انھوں نے بالکل راز رکھا۔ حسین ا نکی غیر موجودگی میں خانقاہ ہی میں رہا مگر اتنی مدت می اسے معلوم ہو گیا کہ شیخ علی وجودی کے مرید و معتقد کن کن شہروں اور کتنی کتنی دور پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دور دراز کا سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے نئے عجیب و غریب احکام سن کے واپس جاتے اور ان کی فوراً تعمیل ہوتی۔ ایک طرف خراسان، مکران، سیستان، فارس، رودبار، آذر بائجان، عراق عرب اور عراق عجم کے مرید آتے اور دوسری طرف عمان، حضرت موت، حجاز، یمن، زنجبار، مصر، طرابلس الغرب، الجزیرہ اور تمام علاقہ افریقہ و ایشیائے کوچک کے معتقد۔ یہ سب لوگ مختلف وضع و لباس میں ہوتے اور پوشیدہ ہی پوشیدہ اکثر راتوں کو شیخ سے مل کے صبح ہونے سے پہلے ہی چلے جاتے۔ حسین اس امر کو نہایت ہی وقعت کی نظر سے دیکھتا کہ شیخ کے خوشہ چین اور ارادت مند کن کن اقطاع عالم میں پھیلے ہوئی ہیں اور اتنے بڑے اژر اور حکومت کے ساتھ بظاہر کس سادگی اور بے نفسی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔
ایک رات کو شیخ کے گرد دس بارہ مریدوں کا مجمع تھا، حسین بھی نہایت ہی ادب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا تھا اور شیخ کی زبان فیض ترجمان بہت بڑے بڑے رموز حکمی اور روحانی کھول رہی تھی۔ ایک شخص نے جو مصر سے آیٰا ہوا تھا ادب سے مگر شک کرنے کے لہجے میں کہا: "میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان جب اس جسم خاکی کو اسی خاک دان میں چھوڑ جاتا ہے تو جنت کی مسرتوں میں اسے کیوں کر لطف آتا ہے؟"
اس کے جواب میں شیخ نے کسی قدر برہمی سے کہا: "بعینہ ایسے ہی جس طرح کہ تم دنیا میں اس جسم کے ساتھ مزہ اٹھاتے ہو"
شخص: کیوں کر؟ جب لذت اور درد تو صرف جسم کے لواحق میں سے ہیں؟
شیخ: (ذرا اور جوش میں آ کے) روح تو بے جسم ہوتی ہے مگر اسے معلوم یہی ہوتا ہے کہ گویا جسم میں ہے۔
شخص: یہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟ جب مادے کی کثافت ہی نہیں تو اسے متشکل اور متحیزکون چیز کرتی ہے؟ یہ سن کے شیخ کی برہمی اعتدال سے زیادہ ہو گئی۔ انھوں نے حسین کو پکار کے قریب بلایا اور کہا: "بتا جب تو کوہ البرز کی گھاٹی، کو جودی کے غار اور شہر خلیل کے تیرہ و تار تہ خانے میں تھا اس وقت تجھے میرے وہاں موجود ہونے تیری حالت دیکھتے رہنے کا یقین ہے؟"
حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک ہے۔ گو میری ناتواں آنکھیں نہ دیکھتی ہوں مگر حضرت کا جلوہ ضرور موجود تھا ورنہ وہاں کے رموز حضرت کو کیوں کر معلوم ہو سکتے۔

یہ سن کے شیخ نے ذرا فخر وناز کی شان سے گرد کے لوگوں کو دیکھا اور سب کے بعد اس شخص کے چہرے پر جس نے شک کیا تھا اپنی تیز نظریں جما دیں۔ مگر ا س کے دل کو ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ شیخ علی وجودی کی اتنی برہم مزاجی دیکھ چکنے پر بھی معترضانہ طریقے سے بول اٹھا: "بے شک آپ وہاں موجود ہونگے اور حسین کے ہر حال کو دیکھ رہے ہوں گے مگر صرف آپ کی روح تھی اور متشکل نہیں ہوئی تھی۔ ایسا ہوتا تو حسین آنکھوں سے بھی آپ کے نورانی جلوے کو دیکھ لیتا۔"

یہ سنتے ہی شیخ کو تاب نہ رہی؛ زرو میں آ کے اٹھ کھڑے ہوئے، آنکھوں کی چمک دو چند ہو گئی منہ میں کف بھر آیا ور اس شخص کی طرف دیکھ کے کہا: "یہ مشت خاک نہایت ہی سرکش ہے یہ اس نور لا نور کے شہود و وجود کو نہ سمجھتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی کو یہ راز بھی نہیں معلوم کہ دنیا کیوں ہے اور یہ روح لطیف اس پیکر خاکی میں ایک مدت تک کیوں قید رکھی جاتی ہے؟ اس کا راز مجھ سے سنو۔ میں وہ شخص ہوں جو سروشستان اور عالم لاہوت کا ایک آن میں دورہ کرتا ہوں۔ اور ان رموز کو جو اس اولی تنوع نور لاہوتی یعنی عرش اعلیٰ کے اطراف میں لکھے ہیں پڑھ آتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ جسم میں آنے سے پیشتر روح مجرد میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ کسی مادی مسرت سے لطف اٹھا سکے۔ اس وقت وہ محض مفر ہوتی ہے اور حظوظ و لذائذ سے فائدہ یاب ہونے کے طریقوں سے بالکل بے خبر۔صرف اسی چیز کا سبق لینے کے لیے وہ اس جسم خاکی میں رکھی جاتی ہے۔ وہ حدود زمانہ جسے تم زندگی کہتے ہو اور ہم روحوں کے کمال حاصل کرنے کا مدرسہ صرف اسی لیے ہے کہ روح لطیف اس مادے کے ساتھ علائق پیدا کر کے ہر قسم کی لذتوں اور ہر قسم کے الموں سے اتنی آشنائی پیدا کر لے کہ اس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب چاہے اپنے آپ کو متحیزو متشکل اور لذت و الم سے متاثر کر سکے۔ جس طرح کوئی شخص مدارج روحانی طے کرنے کے بعد یہ صلاحیت اور قوت حاصل کر لیتا ہے کہ اس جسم میں رہنے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو غائب یا روح مجردہ کی طرح غیر متشکل و غیر متحیز بنا لے اسی طرح روح انسانی عموماً اس جسم خاکی کے حجرے میں بند ہو کے اتنا چلہ کھینچ لیتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کے بعد بھی جب چاہے اور جیسی شکل میں چاہے نمودار اور آشکارا ہو جائے۔ بہت سے با کمال بزرگوں یا شہیدوں کو سنا ہو گا کہ ان کے جسم تو قبر کے کونے میں پڑے سڑ رہے تھے مگر روح اکثر لوگوں کی نظر کے سامنے اپنی سی یا کسی دوسری شکل میں نمودار ہو گئی۔ صرف ایک روح ہے جس نے بغیر جسم میں آئے اس کمال کو حاصل کر لیا۔ اس سے مراد جبرائیل علیہ سلام ہیں جو کبھی وحیہ کلبی اور کبھی دیگر پیکروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے نمودار ہوئے۔ مگر اس راز کا جاننے ولا اس عالم میں میرے سوا کوئی نہیں کہ جبرائیل نے یہ کمال روح کیوں کر حاصل کیا۔ سنو! مسیح کی ولادت کو اسی رمز سے تعلق ہے۔ جبرائیل ہی تھے جو مریم صدیقہ کے جسم میں حلول کر کے مسیح کو صورت میں متحیزہوئے اور تھوڑے ہی زمانے میں اپنا روحی کمال حاصل کر کے چلے گئے۔ مسیحیوں کو دھوکا ہوا کہ خدا تھا۔ مگر نہیں، وہ صرف ایک روح تھی جو ایک جسم سے جس میں دوسری روح بھی موجود تھی، کمالات جسمانی حاصل کر کے آسمان پر چلی گئی۔ مسیح کو روح ایک دوسری روح تھی جو اس کے جسم میں تھی۔ مگر اسی کے ساتھ جبرائیل کی روح بھی ان کے پیکر میں اتر کے چند روز رہی اور مسیح کے جسم سے الوہیت کی شان نمودار کر کے غائب ہو گئی۔ مردوں کو زندہ کر دینا یہ مسیح کا کام نہ تھا بلکہ صرف جبرائیل کی ملکوتی وقت کا مشہور و مسلم نتیجہ تھا جس کا تجربہ لوگوں کو موسیٰ کے عہد میں بھی ہو چکا تھا(بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ سلام نے بحر قلزم میں قدم بڑھائے تو فرعون نے تعاقب میں بڑھنا چاہا مگر اس کا گھوڑا نہ بڑھتا تھا۔ پھر جبرائیل ایک گھوڑی پر سوار نمودار ہوئے اور بڑھے جن کے ساتھ فرعون کا گھوڑا بھی آگے بڑھا۔ سامری نے جبرائیل کی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی اٹھا کے رکھ لی تھی اور اس مٹی کے ڈالنے سے وہ گوسالا بولنے لگا جس کی بنی اسرائیل نے پرستش کی تھی۔)۔ مگر جن کو خدا نے چشم بینا نہیں دی آج بھی نہیں سمجھ سکتے اور مسیح کے اس معجزے کو یاد کر کے پریشان ہوتے ہیں۔ الغرض یہ متحیز اور متشکل ہو سکنے کا کمال ہے اور جس کے حاصل کرنے کے لیے ہر روح دنیا میں آئی ہے اور یہاں سے جانے کے بعد اسی کمال کے مطابق جنت و دوزخ میں اپنے کردار کا جزا و ثواب پاتی ہے۔
تم میرے کمالات سے ناواقف ہو۔ میں وہ شخص ہوں کہ خود ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اس ملاء اعلی پر پہنچا کے وہاں کی ہر چیز دکھا سکتا ہوں۔ اور میرے اختیار میں ہے کہ محبت کے روحانی پیکروں کو اس جسم خاکی کے سامنے لا کے کھڑا۔۔۔۔۔۔"
شیخ نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین روتا اور التجا کرتا ہوا ان کے قدموں میں گرا اور کہا: "یا حضرت! مجھے کسی مسئلے میں شک نہیں مگر اتنی تمنا کے کہ اس سروشستان اور جنت میں ہو آؤں۔ وقت آ گیا کہ اپنی التجا آُ پکے سامنے پیش کروں اور یقین ہے کہ محروم نہ رہوں گا۔"
حسین دیر تک شیخ کے قدموں پر لوٹتا رہا، مگر شیخ اس قدر جوش میں بھے ہوئے تھے کہ چند ساعت تک خاموش کھڑے رہے، پھر اس کو اٹھا کے بٹھایا اور کہا: "حسین! میرے اس وقت کے جوش سے تو نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ خیر، اب اس وقت تو تامل کر؛ کل تنہائی میں پھر درخواست کرنا۔ بے شک وقت آ گیا ہے کہ تجھے اس محنت و ریاضت کا پھل ملے۔ مگر ابھی تیرا امتحان باقی ہے اور سخت امتحان۔ مجھے ابھی دیکھنا ہے کہ تو نے کہاں تک اپنے آُ پکو مرشد کے ہاتھ میں دیا ہے اور یاد رکھ کہ جس قدر تجھے مرشد کا حکم بجا لانے میں تامل ہو گا اسی قدر اپنا مقصد حاصل کرنے میں دیر ہو گی۔"
سب مرید رخصت ہو کے چلے گئے ؛ حسین بھی اپنے بچھونے پر لیٹا۔ مگر یہ رات اسے نہایت ہی انتظار و اضطراب سے بھرپور لگی اس لیے کہ "آتش شوق تیز تو گر دد" کا مضمون تھا۔ صبح کو نماز کے بعد جیسے ہی شیخ شریف علی وجودی نے وظیفے سے فراغت پائی، اور اد ختم کر کے بیٹھے ہی تھے کہ حسین جا کے قدموں میں گر پڑا اور چلایا: "اب زیادہ صبر کی تاب نہیں۔ آپ کو سب حالات خود ہی معلوم ہیں۔ مجھے کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مگر خدا کے لیے زمرد سے جلدی ملائیے۔"
شیخ: بہتر تو زمرد سے ملے گا اس کے وصل سے کامیاب ہو گا۔ مگر اس کے لیے اچھی طرح تیار ہے؟
حسین: دل و جان سے تیار۔
شیخ: دیکھ تجھے تامل نہ ہو؟
حسین: ذرا نہیں۔
شیخ: تیرے دل میں شک اور بد عقیدگی پیدا نہ ہو؟
حسین: ہر گز نہیں۔
شیخ: جرات کا کام ہے!
حسین: میں جان لڑا دوں گا۔
شیخ: اس میں خطرے بھی ہیں؟
حسین: ہوں۔
شیخ: تو سن!
حسین: ارشاد؟
شیخ: یہی نہیں دل مضبوط کر لے۔
حسین: خوب


جمعرات، 30 جون، 2016

''پریوں کا غول'' مولانا عبدالحلیم شر کی کتاب فردوس بریں سے اقتباس


فردوس بریں سے اقتباس
ایک قدیم اردو داستان جسے آغاز کریں تو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لے
پہلا باب
''پریوں کا غول''
مصنف: عبدالحلیم شر
-------------------
اب تو سنہ ٦٥٠ ہجری ہے، مگر اس سے ڈیڑھ سو سال پیشتر سے سیاحوں اور خاصۃً حاجیوں کے لئے وہ کچی اور اونچی نیچی سڑک نہایت ہی اندیشہ ناک اور پرخطر ہے جو بحر حزر (کیسپین سی) کے جنوبی ساحل سے شروع ہو ئی ہے اور شہر آمل میں ہو کے شاہنامے کے قدیم دیوستان یعنی ملک ماژندران اور علاقہ رودبار سے گزرتی اور کوہسار طالقان کو شمالاً و جنوباً قطع کرتی ہوئی شہر قزوان کو نکل گئی ہے۔ مدتوں سے اس سڑک کا یہ حال ہے کہ دن دہاڑے بڑے بڑے قافلے لٹ جاتے ہیں اور بے گناہوں کی لاشوں کو برف اور سردی مظلومی و قتل و غارت کی یادگار بنا کے سالہا سال تک باقی رکھتی ہے۔
ان دنوں ابتدائے سرما کا زمانہ ہے۔ سال گزشتہ کی برف پوری نہیں گھلنے پائی تھی کہ نئی تہ جمنا شروع ہو گئی۔ مگر ابھی تک جاڑا اتنے درجے کو نہیں پہنچا کہ موسمِ بہار کے نمونے اور فصلِ گل کی دلچسپیاں بالکل مٹ گئی ہوں؛ آخری موسم کے دو چار پھول باقی ہیں اور کہیں ان کے عاشق و قدردان بلبل بدخشانی بھی اپنی ہزار داستانی و نغمہ سنجی کے راگ سناتے نظر آ جاتے ہیں۔ یہ کوہستان عرب کے خشک و بے گیاہ پہاڑوں کی طرح برہنہ اور دھوپ میں جھلسے ہوئے نہیں بلکہ ہر طرف سایہ دار درختوں اور گھنی جھاڑیوں نے نیچر پرستوں اور قدرت کے صحیح قدردانوں کے لیے عمدہ عزلت کدے اور خلوت گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اور جس جگہ درختوں کے جھنڈ نہیں وہاں آسمان کے نیلے شامیانے کے نیچے قدرت نے گھاس کا سبز اور مخملیں فرش بچھا دیا ہے جس پر بیٹھ کر کوئی شراب شیراز کا لطف اٹھانا چاہے تو یہاں نہر رکنی کے بدلے نہر ویرنجان بھی موجود ہے، جو شائد ابھی پوری ڈیڑھ صدی بھی نہیں گزری کہ رود سفید سے کاٹ کر پہاڑوں کے اندر ہی اندر مختلف گھاٹیوں میں گھمائی اور شہر خرم آباد کے قریب بحر خزر میں گرائی گئی ہے۔
ان ہی دلچسپیوں اور قدرت کے ان ہی دلفریب منظروں نے اس کوہسار کے متعلق طرح طرح کے خیالات پیدا کر رکھے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنت انھی گھاٹیوں میں ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ قدیم دیوزادوں کو تو کیومرث و رستم نریمان کے زورِ بازو نے فنا کر دیا مگر ان کی یادگار میں بہت سی پریاں آج تک تنہائی کے مقامات میں سکونت پذیر ہیں۔ اور بعض سیاحوں کو تو پریوں کے بڑے بڑے ہوش رُبا غول گھاٹیوں سے ناگہاں نکل پڑتے نظر آئے۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ جو کوئی ناگہاں ان پریوں کے غول میں پڑ جاتا ہے، فوراً مر جاتا ہے۔
مگر پریوں اور قدیم دیووں سے زیادہ ظالم ملاحدہ اور باطنیہ لوگ ہیں جو اس تمام علاقے میں آباد اور پھیلے ہوئے ہیں، اور جو پرائے اصول و عقائد کا مسلمان ان کے ہاتھ میں پڑ جاتا ہے، کسی طرح جان بر نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً جمادی الاول، جمادی الثانی اور رجب کے مہینوں میں ان کے مظالم کی دھوم مچ جاتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ علاقہائے ترکستان، کرغیز اور استراخان کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو جہازوں پر بحر خزر سے بار کرتے ہوئے ارضِ عراق کو جاتے اور پھر وہاں سے خاک پاک حجاز کا ارادہ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کے مظالم کی ہر جگہ شہرت ہو گئی ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ راستہ چھوڑ دیا مگر پھر بھی بعض بے پروا مسلمان اپنی خوش اعتقادی کے جوش میں آ ہی نکلتے ہیں؛ علی الخصوص آمل اور اس کے مضافات کے حاجیوں کے لیے تو اور کوئی راستہ ہی نہیں۔
یہ سڑک جس کا اوپر ذکر آیا، بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے مگر ہمارے پیش نظر صرف وہی حصہ ہے جہاں یہ سڑک نہر ویرنجان کے کنارے کنارے گزر رہی ہے۔ اس مقام سے علاقہ رودبار کے میدان ختم ہو گئے ہیں اور کوہستان کے سخت اور پیچیدہ نشیب و فراز کی ابتدا ہے۔ یہاں سے کچھ آگے بڑ ھ کے سڑک اور طرف گئی ہے اور نہر کوہ البرز کے دامنوں میں چکر کھا کے دشوار گزار اور پیچیدہ گھاٹیوں میں غائب ہو گئی ہے۔
شام کو شائد چند ہی گھڑیاں باقی ہوں گی؛ آفتاب سامنے کی برف آلود چوٹیوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کی کمزور کرنوں نے جو تھوڑی بہت گرمی پیدا کی تھی، مٹ گئی اور ہوا کے سرد جھونکے جو بلند برفستان پر سے پھسلتے ہوئے آتے ہیں، انسان کے کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔
اس جگہ پر ایسی حالت میں شمال کی طرف سے دو مسافر سر سے پاؤں تک کپڑوں میں لپٹے اور دو بڑی بڑی گٹھریوں کی صورت بنائے ہوئے آہستہ آہستہ آ رہے ہیں۔ دونوں دو چھوٹے چھوٹے اور تھکے ماندے گدھوں پر سوار ہیں۔ ان کی سست روی اور مجموعی حالت سے خیال ہوتا ہے کہ کسی گاؤں کے غریب ملا یا فقیر ہیں جو امارت اور سپاہیانہ دونوں وضعوں سے جدا کسی دینی غرض اور تقدس کی شان سے مذہبی سفر کو نکلے ہیں۔ مگر نہیں، وہ اور قریب آ گئے تو معلوم ہوا کہ نہ وہ ملا ہیں اور نہ مشائخ بلکہ دو نو عمر شریف زادے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک مرد ہے اور ایک عورت۔ ان کے لباس و وضع سے چاہے نہ ظاہر ہو مگر بشرے بتائے دیتے ہیں کہ کسی معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور ممکن نہیں کہ کسی نامی اور شریف گھرانے سے نہ تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کہ موٹے موٹے اور لمبے چوڑے کمبلوں کے نیچے جنہیں سر سے پاؤں تک لپیٹ لیا ہے، دونوں شرفائے آمل کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔
مرد جس کی اٹھتی جوانی ہے ایک خوبصورت نوجوان ہے۔یہ ایک اونی کفتان پر بڑا پوستین کا لبادہ پہنے ہے۔ سر پر قدیم لمبی ترکی ٹوپی ہے جو بانس کی تیلیوں سے مخروطی صورت میں بنا کے بکری کی سیاہ کھال سے منڈھ دی گئی ہے۔ ٹوپی پر بڑا عمامہ ہے اور اس کے کئی پیچ سر سے نیچے اتر کے کانوں اور گلے میں بھی لپٹے ہیں۔پاؤں میں موزے اور ایک اونی پائجامہ ہے۔ کمر میں چمڑے کی پیٹی کسی ہے جس میں خنجر لگا ہے اور تلوار لٹک رہی ہے۔ اس نوجوان کے پاس کمان اور تیروں کا ترکش بھی ہے۔ مگر اس عہد قدیم کے یہ ضروری اسلحے گدھے کی زین میں بندھے ہیں۔ اور یہی ایک حربہ ہے جس کے ذریعے سے شکار کر کے یہ دلاور نوجوان اپنے اور اپنی دل ربا ہم سفر کے لیے قوت لایموت حاصل کرتا ہے۔ الغرض ایک گدھے پر تو یہ نوجوان سوار ہے اور دوسرے پر ایک اٹھارہ انیس برس کی پری جمال۔ موٹے موٹے کپڑے اور بھدی پوستین اس کے زاہد فریب حسن کو بہت کچھ چھپا رہے ہیں، مگر ایک دلربا ماہ وش کی شوخ ادائیاں کہیں چھپائے چھپی ہیں! جس قدر چہرہ کھلا ہے، حسن کی شعاعیں دے رہا ہے اور دیکھنے والے کی نظر کو پہلا ہی جلوہ یقیں دلا دیتا ہے کہ ایسی حسین و نازنیں پھر نظر نہ آئے گی۔ ہماری آفت روزگار مہ جبیں ایک زرد ریشمی پائجامہ پہنے ہے، جو اوپر سے نیچے تک ڈھیلا اور پاؤں کے گٹوں پر خوشنما چنت کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ گلے میں دیبائے سرخ کا کرتا ہے اور سر پر نیلے پھول دار اطلس کی خمار۔ لیکن یہ سب کپڑے ایک گرم اور پھولے پھالے پوستین کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ جو چیز کہ اس کے عورت ہونے کو عام طور پر ظاہر کر رہی ہے وہ چھوٹی چھوٹی سینکڑوں چوٹیاں ہیں جو خمار کے نیچے سے نکل کے ایک شانے سے دوسرے شانے تک ساری پیٹھ پر بکھرتی چلی گئی ہیں اور راستے کے نشیب و فراز یا گدھے کی تیز روی سے بار بار کھل جاتی ہیں۔
اس دل ربا لڑکی کے حسن و جمال کی تصویر دکھانا مشکل ہے، مگر غالباً یہ چند باتیں مشتاق دلوں میں، اور آرزو مند نگاہوں کے سامنے اس کے زاہد فریب حسن کا ایک معمولی خاکہ قائم کر سکیں۔ گول آفتابی چہرہ، جیسا کہ عموماً پہاڑی قوموں میں ہوتا ہے، ستے اور کھنچے ہوئے سرخی کی جھلک دینے والے گال، بڑی بڑی شربتی آنکھیں، لمبی نوکدار پلکیں، بلند مگر کسی قدر پھیلی ہوئی ناک، نازک اور خمدار ہونٹ، باریک اور ذرا پھیلی ہوئی باچھیں، چھوٹی سی سانچے میں ڈھلی ہوئی نوکدار ٹھڈی، شرم آگیں اور معمولاً جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ شوخ اور بے چین چشم و ابرو؛ اور اس تمام سامان حسن کے علاوہ تمام اعضاء و جوارح کا غیر معمولی تناسب ہر شخص کو بے تاب و بے قرار کر دینے کے لیے کافی ہے۔
یہ دونوں نو عمر مسافر چاروں طرف کے منظروں کو دیکھتے اور مقامی دشواریوں کی وجہ سے دل ہی دل میں ڈرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور خاموش ہیں۔ دن کے آخر میں ہو جانے کے خیال سے ان کے نازک چہرے جنہوں نے ابھی تک تجربے کی پختگی حاصل نہیں کی، پریشان ہونے لگے ہیں، مگر اس پر بھی خموشی کا قفل نہیں کھلتا۔ ناگہاں کسی فوری جذبے سے مغلوب ہو کر نازنین لڑکی نے ٹھنڈی سانس لی اور باریک اور دلفریب آواز میں پوچھا "آج کون دن ہے؟"
نوجوان: (چپکے ہی چپکے کچھ حساب لگا کر) جمعرات!
لڑکی: (حسرت آمیز لہجے میں) تو ہمیں گھر چھوڑے آج پورے آٹھ دن ہوئے۔ (ذرا تامل کر کے) خدا جانے لوگ کیا کیا باتیں کہتے ہوں گے اور کیسی کیسی رائیں قائم کی جاتی ہوں گی۔
نوجوان: یہی کہتے ہوں گے کہ حج کے شوق نے ہم سے وطن چھڑا دیا۔
لڑکی: (پھر ایک آہ سرد بھر کے)مجھے الزام دیتے ہوں گے کہ نا محرم کے ساتھ چلی آئی۔
نوجوان: زمرد! (یہ لڑکی کا نام ہے) اب میں نامحرم نہیں ہوں۔ دو ہی چار روز میں ہم قزوین پہنچ جائیں گے اور وہاں پہنچتے ہی ہمارا نکاح ہو جائے گا۔
زمرد: (پھر ٹھنڈی سانس لے کے)خدا جانے وہاں تک پہنچنا بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔
نوجوان: کیوں؟ زمرد: راستے کی دشواریاں مشہور نہی ہیں؛ کوئی خوش نصیب مسافر ہی ہوتا ہو گا جو پریوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل جاتا ہو۔ اور ان سے بچ بھی جائے تو ملاحدہ (ملاحدہ یہ قرامطہ اور خاصۃً باطنیہ کا عام لقب تھا) کیوں چھوڑنے لگے۔
زمرد میں اس وقت ایک غیر معمولی تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ اس مقام نے اسے کوئی خاص بات یاد دلا دی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ چاروں طرف کے منظر کو ہر طرف مڑ مڑ کر کے دیکھ رہی ہے اور بار بار آہ سرد بھرتی ہے۔ نوجوان نے اس بات کا خیال بھی نہیں کیا اور معمولی لہجے میں کہنے لگا: "ملاحدہ کی طرف سے تو مجھے اطمینان ہے، اس لیے کہ ان کے مشہور نقیب آمل ملا ہبتہ اللہ سے مجھے ایک خط مل گیا ہے، وہ خط ہمیں ایک مجرب تعویذ کا کام دے گا اور اس کے پیش کرتے ہی ہم پر قرمطی کے دست ستم سے نجات پا جائیں گے۔"
یہ باتیں کرتے کرتے دونوں نو عمر مسافر اس مقام پر پہنچے جہاں سے سڑک تو کوہسار کی بلندی پر چڑھنا شروع ہوئی ہے اور نہر اس سے جدا ہو کے دشوار گزار گھاٹیوں اور گھنی خاردار جھاڑیوں میں گھسنے کے لیے داہنی جانب مڑ گئی ہے۔نوجوان نے اپنے گدھے کو آگے بڑھایا ہی تھا کہ زمرد باگ روک کے کھڑی ہو گئی اور کہا: "نہیں حسین!(یہ اس نوجوان کا نام ہے) "ادھر نہیں"
حسین: (حیرت سے زمرد کی طرف دیکھ کر) پھر کدھر؟
زمرد: جدھر یہ نہر گئی ہے۔
حسین: ادھر تو راستہ نہیں۔
زمرد: ہے تم چلو تو سہی۔
حسین: آخر قزوین چلتی ہویا کہیں اور؟
زمرد: نہیں میری منزل مقصود قزوین نہیں، مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ یہ نہر کدھر گئی ہے۔
حسین: اس طرف تو پریوں کا نشیمن ہے۔
زمرد: ہونے دو۔
حسین: سنتا ہوں کوئی ادھر سے زندہ نہیں پھرا۔
زمرد: میں بھی چاہتی ہوں۔
حسین نے تعجب اور حیرت سے زمرد کی صورت دیکھی اور ایک متانت کی آواز سے کہا: "اور وہ حج کی نیت کیا ہوئی؟"
زمرد: ہے، مگر پہلے اپنے بھائی موسیٰ کی قبر پر جا کے فاتحہ پڑھ لوں تو مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کریں۔
حسین: تمہارے بھائی کی قبر؟ مگر یہ کسے خبر کہ کہاں ہے؟
زمرد: مجھے معلوم ہے، راستہ بھی جانتی ہوں اور اس مقام کو بھی۔
حسین: (حیرت سے)تم! تم کیا جانو؟
زمرد: خوب جانتی ہوں!
حسین: کیا کبھی آئی تھیں؟
زمرد: نہیں، مگر یعقوب جو بھائی کے مرنے کے بعد خبر لایا تھا۔ اس سے پورا پتہ دریافت کر چکی ہوں۔ پہلی نشانی تو یہی ہے کہ جہاں سے نہر سڑک سے علیحدہ ہوئی ہے، سڑک چھوڑ کے نہر کے کنارے کنارے جانا چاہیے ؛ اور بعد کی نشانیاں آگے چل کر بتاؤں گی"۔
حسین: یعقوب کو کیا معلوم؟ کون کہہ سکتا ہے کہ ان بلند اور پیچ در پیچ پہاڑوں میں کون شخص کہاں اور کیوں کر مارا گیا؟
زمرد: تم نہیں جانتے بھائی موسیٰ اور یعقوب دونوں ساتھ ساتھ تھے ؛ اس مقام پر پہنچ کے نہر کر کنارے کنارے کچھ دور گئے تھے کہ کوہ البرز سے پریوں کا غول اترا۔ ان کے ہاتھ سے بھائی تو مارے گئے مگر یعقوب غش کھا کر گر پڑا۔ اگلے دن جب اسے ہوش آیا تو بھئی کی لاش پڑی پائی۔ انھیں دفن کیا پھر قبر بنا کے اور قبر کے پاس ہی ایک چٹان پر ان کا نام کندہ کر کے واپس آیا۔
حسین: مجھے تو غپ معلوم ہوتی ہے۔ آخر اس کا سبب کہ پریوں نے یعقوب کو تو زندہ چھوڑ دیا اور تمہارے بھائی مارے گئے؟
زمرد: اس کا یہ سبب ہوا کہ بھائی نے ایک پری کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور یعقوب بزدل تھا؛ پری زادوں کو دیکھتے ہی غش کھا کر گر پڑا۔
حسین: پھر ایسے مقام میں تو ہرگز نہ جانا چاہیے۔
زمرد: نہیں حسین، میں ضرور جاؤں گی۔
حسین: فرض کرو کہ ہم وہاں پہنچے اور ہمارے سامنے بھی پریاں اتریں تو؟
زمرد: میں تو اس سے نہیں ڈرتی؛ اگر تمہیں خوف ہے تو نہ چلو۔
حسین: تم اکیلی جاؤ اور میں نہ چلوں!میں جو تمہاری محبت میں ہر وقت جان دیتے کو تیار ہوں!
زمرد: حسین، سنو! میں تمہارے ساتھ نہ آتی۔ یہ مانتی ہوں کہ تم شریف ہو، اور اسی زمانے سے جب کہ ہم دونوں مکتب میں ساتھ پڑھتے تھے، مجھے تم سے محبت ہے، مگر یہ نہ سمجھو کہ ایک شریف لڑکی کو تم فقرہ دے کے گھر سے نکال لائے ہو؛ میں خود اپنے شوق سے آئی ہوں فقط اتنی امید پر کہ بھائی کی قبر پر کھڑی ہو کر دو آنسو بہاؤں گی؛ جب یہ مقصد پورا ہولے گا تو حج کو چلوں گی۔
حسین: زمرد! اپنی جوانی اور اس کم سنی پر ترس کھاؤ اور اس ارادے سے باز آ جاؤ۔
زمرد: نہیں، یہ نہیں ہو سکتا؛ اسی آرزو کے لیے بے عزتی گوارا کی ہے۔
حسین: (مایوسی کی آواز سے) خداوندا۔ اگر جان ہی جاتی ہے تو پہلے میں مارا جاؤں تیری مصیبت ان آنکھوں سے دیکھی نہ جائے گی۔
زمرد: (مسکرا کے)گھبراؤ نہیں، ہم دونوں کی کشش ایک دوسرے کو کھینچ لے گی۔ مارے گئے تو دونوں مارے جائیں گے۔
یہ کہہ کر زمرد نے اپنے گدھے کو نہر ویرنجان کی طرف موڑا؛ دو ہی قدم چلی ہو گی کہ حسین نے پھر روک کے کہا "زمرد ذرا صبر کرو، چلنا ہے تو کل چلنا؛ اب شام ہوا چاہتی ہے پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔"
زمرد: بس اب چلے ہی چلو؛ کہیں آبادی کے ملنے کی تو امید نہیں؛ اور جب جنگل ہی میں ٹھہرنا ہے تو یہاں وہاں دونوں جگہ برابر ہے۔
حسین سے کسی طرح انکار کرتے نہ بنی؛ چل کھڑا ہوا؛ اور دل میں پس و پیش کرتا ہوا زمرد کے ساتھ کوہ البرز کی تیرہ و تاریک گھاٹی میں جا گھسا۔ اب دونوں آہستہ آہستہ چلے جاتے ہیں اور اس سنسان مقام کا رعب دلوں پر اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ بالکل خاموش ہیں۔ جوں جوں آگے بڑھتے ہیں جنگل گھنا ہوتا جاتا ہے سردی ساعت بہ ساعت بڑھ رہی ہے۔ سناٹے نے نہر بہنے کی آواز تیز کر دی ہے جس سے اس مقام کے وحشت ناک منظر میں ایک ہیبت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اب راستہ ایسا دشوار ہے کہ گدھوں سے اترنا پڑا۔ دونوں آگے پیچھے چلتے اپنے گدھے کے دہانے ہاتھ میں پکڑے چٹانوں سے بچتے اور جھاڑیوں میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ آخر دیر کے سکوت کے بعد حسین نے مرعوب ہو کے کہا: "بے شک دیو و پری ایسے ہی سناٹے کے مقام میں رہتے ہیں۔ انسان کیا معنی یہاں تو جانور کا بھی پتا نہیں۔"
زمرد: ہاں! اور سنتی ہوں اس نہر میں اکثر جگہ پریاں نہاتی اور بال کھولے ہوئے آپس میں کھیلتی اور چھینٹیں اڑاتی بھی نظر آ جایا کرتی ہیں۔
حسین: (چونک کر)ایں! سنسنانے کی آواز کیسی تھی جیسے کوئی چیز سن سے کانوں کے پاس آ کر نکل گئی؟
زمرد: یہ تو مشہور ہے پریوں کے تخت چاہے اڑتے نظر نہ آئیں مگر ان کے سن سے نکل جانے کی آواز ضرور سنائی دیتی ہے۔
حسین: یہ بھی ممکن ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی جانور تھا۔
زمرد: جانور ہوتا تو دکھائی نا دیتا!
حسین: اگرچہ ابھی آفتاب نہیں غروب ہوا، مگر یہاں تم دیکھ رہی ہو کہ شام سے بھی زیادہ اندھیرا ہے۔ ایسے دھندلکے میں بعض اوقات الو یا بڑے بڑے چمگادڑ اس طرح سناٹے کی آواز سے اڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔
زمرد: لیکن اصل میں یہ بھی پری زاد ہیں جو مختلف جانوروں کی صورت میں رات کو نکلتے ہیں۔
حسین: ہو گا!(انتا کہہ کر اس نے گرد کے سین کو دہشت اور بزدلی کی نگاہوں سے دیکھا اور نہایت ہی پریشانی کی آواز میں کہا) شام ہوا ہی چاہتی ہے اور تمہارے بھائی کی قبر کا کہیں پتا نہیں۔
زمرد: مگر میں تو بھائی کی قبر تک پہنچے بغیر دم نہ لوں گی۔
یہ کہتے ہی ایک نہایت ہی تاریک گھاٹی نظر آئی جس میں نہر تو گئی ہے مگر دونوں جانب ایسی چکنی اور کھڑی چٹانیں ہیں کہ انسان کا گزرنا بہت ہی دشوار ہے۔ اس گھاٹی کی صورت دیکھتے ہی زمرد ایک شوق اور بے خودی کی آواز میں چلا اٹھی: "ہاں دیکھو، یہ دوسری علامت ہے۔ اسی میں سے ہوکے راستہ گیا ہے۔"
حسین: مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ ادھر سے ہم جائیں گے کیونکر؟
زمرد: جس طرح بنے، جاؤں گی ضرور!
حسین: اور یہ گدھے؟ زمرد: ان کو یہیں چھوڑ دو واپس آ کے لے لینا۔
حسین سے اس مستقل مزاجی اور دھن پر زمرد کو تعجب کی نگاہ سے دیکھا، پھر گدھے درختوں سے باندھے اور دونوں چٹانوں سے چمٹتے اور ہاتھوں سے پتھروں کے سروں اور خمروں کو پکڑتے آگے روانہ ہوئے۔کوئی دو گھڑی یہ محنت کا سفر کیا ہو گا کہ گھاٹی ختم ہو گئی جس سے نکلتے ہی دونوں نے دیکھا کہ نہر ویرنجان اس گھاٹی سے گزر کے یکایک ایک نہایت ہی فرح بخش مرغ زار میں بہنے لگی ہے۔ یہ عجیب لطف کا مقام تھا۔ قدرت نے خود ہی چمن بندی کر دی تھی۔شگفتہ اور خوش رنگ پھولوں کے تختے دور دور تک پھیلتے چلے گئے تھے۔ نغمہ سنج طیور بھی یہاں کثرت سے نظر آئے جو ہر طرف شاہدان چمن کے حسن و جمال پر صدقے ہوتے پھرتے تھے۔شام ہو رہی تھی اور یہ جوش میں بھرے ہوئے عاشقانِ شاہد گل اپنے معشوقوں کو الوداع کہہ رہے تھے۔ یہ سماں دیکھتے ہی زمرد نے خوش ہو کے کہا: "اب ہم اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے ہیں۔ اسی وادی میں بھائی موسیٰ مارے گئے اور کہیں یہیں ان کی قبر بھی ہو گی۔"
یہ کہہ کے زمرد ایک نازک بدن اور چست چالاک ہرنی کی طرح چاروں طرف دوڑی اور ایک بڑے سے پتھر کے پاس ٹھہر کے چلائی: "آہ!یہی میرے بھائی کی قبر ہے۔"
اس آواز کے سنتے ہی حسین بھی ادھر دوڑا گیا اور دیکھا کہ ایک چٹان پر موسیٰ کا نام کھدا ہوا ہے اور اس کے قریب ہی چند پتھروں کو برابر کر کے ایک قبر کی صورت بنا دی گئی ہے۔
دونوں نے یہاں کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کی مگر زمرد کے دل پر حسرت و اندوہ کا اس قدر غلبہ ہوتا جاتا تھا کہ فاتحے کر ختم ہونے سے پہلے ہی وہ گر پڑی اور قبر سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔ حسین نے بہت کچھ تسلی دی، نہر سے پانی لا کے منہ دھلایا اور رات کے اندھیرے میں اپنی حور وش محبوبہ کو گود میں لے کے بیٹھا اور سمجھانے لگا۔
زمرد: (ہچکیاں لے لے کے) حسین مجھے اپنی زندگی کی امید نہیں؛ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہیں مروں گی۔ ہاتھ پاؤں سنسنا رہے ہیں، کلیجے میں میٹھا میٹھا سا درد ہے اور دل بیٹھا جا رہا ہے۔ مگر مرنے سے پہلے تم سے ایک وصیت ہے۔ مر جاؤں تو میری لاش کو بھی انھیں پتھروں کے نیچے دبا دینا جن کے نیچے بھائی موسیٰ کی ہڈیاں ہیں۔
حسین: (نہایت مستقل مزاجی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں آنسو پی کر) یہ وصیت اگر پوری ہونے والی ہو گی تو کسی اور کے ہاتھوں سے پوری ہو گی۔ میں تمہارے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور جس کسی کے ہاتھ سے یہ وصیت پوری ہو گی وہ تمہارے ساتھ میری ہڈیوں کو بھی ان ہی پتھروں کے نیچے دبائے گا۔
زمرد: (خوشامد کے لہجے میں) نہیں حسین ایسا نہ کرنا۔ تم کو ابھی نہیں معلوم کہ مجھے کیا چیز یہاں کھینچ لائی ہے۔ نہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ بھائی کی محبت ہے نہ یہ کہہ سکتی ہوں کے یعقوب کے بیان میں کوئی جادو تھا، مگر جس روز اس نے بھائی موسیٰ کی حسرت نصیب داستان سنائی اس کے دوسرے ہی دن میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے بھائی اس وادی میں کھڑے ہیں۔ خواب ہی میں انھوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا اور تاکید کر کے کہا کہ میرے قبر پر آ کے فاتحہ پڑھ۔مرحوم بھائی نے کچھ ایسی مؤثر وضع سے بلایا تھا کہ ان کی اُس وقت کی صورت اِس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ میں یہاں بھائی کی بلائی ہوئی آئی ہوں۔
حسین: (وفورِ گریا سے بے اختیار ہو کر اور ایک بے انتہا جوش کے ساتھ)خیر تمھیں تو انھوں نے خواب میں فقط بلایا تھا اور مجھے تم خود ساتھ لائی ہو۔
زمرد: ہاں میں تم کو ساتھ لائی اور اسی سبب سے کہ اس دنیا میں مجھے تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں۔ میری تمنا تھی اور ہے کہ تمہارے پہلو میں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے جان دوں؛ اور اس کے بعد تم گھر جاؤ اور وہاں عزیزوں اور شہر کے دیگر شرفاء کی نظر میں جو کچھ بے عزتی ہوئی ہے اس کو دور کرو اور میری خبر مرگ کے ساتھ سب کو جا کے بتا دو کہ میں نے کیوں اور کہاں جان دی۔ اور مرتے وقت تک کیسی پاک دامن تھی۔ (گلے میں بانہیں ڈال کے) حسین! میری آرزو ہے کہ تم زندہ رہو اور میرے دامن سے بدنامی کا داغ دھوؤ۔
حسین: (ایک نالہ جانکاہ کے ساتھ) خدا نہ کرے کہ میں تمہاری خبر مرگ لے جاؤں!
زا کہاں ایک پہاڑی کی ڈھالو سطح پر کچھ روشنی نظر آئی، جس پر پہلے زمرد کی نظر پڑی اور اس نے چونک کے کہا: "یہ روشنی کیسی؟" حسین نے بھی اس روشنی کو حیرت سے دیکھا ور کہا: "خدا جانے کیا بات ہے، اور دیکھو ادھر ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ اس رات کی تاریکی میں یہاں آنے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں؟"
دونوں عاشق و معشوق روشنی کو گھبرا کے اور ساعت بہ ساعت زیادہ متحیزہو کے دیکھ رہے تھے کہ وہ بالکل قریب آ گئی۔ بڑی بڑی پندرہ بیس مشعلیں تھیں اور ان کے نیچے حسین و پری جمال عورتوں کا ایک بڑا غول، جن کی صورت دیکھتے ہی زمرد اور حسین دونوں نے ایک چیخ ماری؛ دہشت زدگی کی آواز میں دونوں کی زبان سے نکلا "پریاں" اور دونوں غش کھا کے بے ہوش ہو گئے۔

پیر، 27 جون، 2016

انوکھی شرط

گذشتہ دنوں شیرازی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ وہ ہمارے دفتر میں اسٹور انچارج تھے۔ ان کی موت نہایت حیرت انگیز اور افسوس ناک انداز میں ہوئی تھی۔ کسی بات پر انھیں اتنی زور کی ہنسی آئی کہ وہ ہنستے ہنستے دہرے ہو گئے۔ وہ میز پر سر رکھ کر دیر تک ہلتے رہے، پھر ہلنے کی رفتار کم ہوتے ہوتے بالکل تھم گئی۔ لوگ سمجھے کہ شاید ہنس چکے، لیکن جب وہ دیر تک اسی حالت میں رہے تو کسی نے کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ اصل میں وہ دل کے مریض تھے۔
آج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ ہارون اور نزاکت علی پر نظر پڑی۔ ہارون شیرازی صاحب کا معاون رہ چکا تھا اور نزاکت علی وہاں کلرک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ میں نے انھیں چائے کی دعوت دی اور ہم ایک ہوٹل میں آ کر بیٹھ گئے۔ باتوں میں شیرازی صاحب کا ذکر نکل آیا۔
ہارون نے کہا: "ہاں، شیرازی صاحب کی موت بہت حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ایسا اتفاق لاکھوں میں ایک بار ہوتا ہے۔"
میں نے کہا: "ایک بار میں نے ان کی جان بچائی تھی۔ ایسا واقعہ بھی لاکھوں میں ایک بار ہی ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ذرا مختلف قسم کا ہے۔"
ہارون نے پوچھا: "ایسا کون سا واقعہ ہے نسیم بھائی! جو ہمیں نہیں معلوم؟"
میں نے کہا: "یہ آپ لوگوں کی ملازمت میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔"
ہارون بے قراری سے بولا: "کیا ہوا تھا؟"
میں نے کہا: "شیرازی صاحب زندہ ہوتے تو میں یہ بات نہیں بتاتا، لیکن اب چوں کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، اس لیے اب بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ برسوں پہلے کا بڑا انوکھا واقعہ ہے۔ اس دن میں نے حاضر دماغی سے کام لے کر ان کی جان بچا لی تھی اور اس سلسلے میں ایک ہزار روپے بھی مجھے شیرازی صاحب کو ادا کرنے پڑے تھے، حال آنکہ ان دونوں میرا ہاتھ تنگ تھا۔ انھوں نے میرا شکریہ تک ادا نہیں کیا، بلکہ وہ رقم اپنا حق سمجھ کر رکھ لی تھی۔"
دونوں بڑی توجہ سے میری بات سن رہے تھے۔ میں نے بات آگے بڑھائی۔ ایک بار میں نے چند دوستوں کی دعوت کی اور شیرازی صاحب کو بھی مدعو کیا۔ وہ آئے اور باتونی ہونے کی وجہ سے دوسرے مہمانوں سے جلد ہی گھل مل گئے۔ اسی دوران ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا۔ رانگ نمبر تھا۔ میں نے فون واپس رکھ دیا۔ ان دنوں ٹیلیفون اتنا عام نہیں تھا۔ بات فون کے استعمال پر ہونے لگی۔ میں نے اچانک شیرازی صاحب سے کہا: "میں آپ سے ایک شرط لگانا چاہتا ہوں۔"
شیرازی صاحب بولے: "نسیم صاحب! آپ کو شرط لگانے کا بہت شوق ہے، خیر کیا ہے وہ شرط؟"
میں نے کہا: "آپ اس کمرے میں موجود کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔ پھر ٹیلے فون ڈائریکٹری میں سے کوئی نمبر منتخب کر مجھے دیں۔ اس نمبر پر جو بھی شخص ہو گا، میں اسے شرط کی تفصیل بتاؤں گا، پھر آپ اس سے پوچھیے گا کہ آپ نے کمرے کی کون سی چیز کا انتخاب کیا ہے۔ اگر اس شخص نے صحیح جواب دے دیا تو آپ ہار جائیں گے اور مجھے ایک ہزار روپے دیں گے۔ اگر غلط جواب دیا تو میں ہار تسلیم کر لوں گا اور اسی وقت آپ کو ہزار روپے پیش کر دوں گا۔"
شیرازی صاحب سمجھے کہ شاید میں مذاق کر رہا ہوں۔ میں نے ایک ہزار کا نوٹ جیب سے نکال کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے انھیں اپنے سنجیدہ ہونے کا یقین دلایا۔
انھوں نے نوٹ میرے ہاتھ سے لے کر میز پر رکھ دیا: "منظور ہے۔"
انھیں یقین تھا کہ کوئی بھی صحیح جواب نہ دے سکے گا۔ انھوں نے کمرے میں چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ پھر کونے میں ٹی وی کے برابر رکھے ہوئے اڑتے ہوئے کبوتر کے ماڈل پر ان کی نظریں جم گئیں: "ٹھیک ہے، کبوتر کا یہ ماڈل ٹھیک رہے گا۔"

اب میں نے ان کے سامنے ٹیلے فون کی ڈائریکٹری رکھ دی: "اب اس میں سے کوئی ایک نمبر چن لیں۔"
وہ کچھ دیر تک ورق گردانی کرتے رہے پھر علاحدہ کاغذ پر ایک نمبر اور اس شخص کا نام لکھ دیا۔ اس کا نام فضل تھا۔ میں نے یہ نام اور نمبر سب کو دکھایا۔ پھر ٹیلے فون کا ریسیور اٹھایا اور مہمانوں کی طرف دیکھا۔ وہ سب بڑی بےصبری سے اس انوکھی شرط کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہا: "حضرت! آپ سب گواہ ہیں کہ شیرازی صاحب نے ٹی وی کے برابر رکھے ہوئے ماربل کے کبوتر کا انتخاب کیا ہے۔"
پھر میں نے شیرازی صاحب کی طرف رخ کر کے ان سے کہا: " اگر آپ اب بھی اپنا انتخاب بدلنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔"
وہ بولے: "نہیں، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ نمبر میرے سامنے ملایا جائے جو میں نے چنا ہے۔"
میں نے کہا: "ٹھیک ہے، آ جائیے۔"
جب وہ قریب آ گئے تو میں نے ان کے سامنے نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف رابطہ ہونے پر میں نے کہا: جناب! کیا فضل صاحب بات کر رہے ہیں؟"
ہاں میں جواب پا کر میں نے مزید کہا: "معاف کیجیئے گا، آپ کو زحمت دے رہا ہوں۔ دراصل ہمارے دوست شیرازی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ریسیور شیرازی صاحب کو پکڑا دیا۔ انھوں نے شرط کی تفصیلات بتانے کے بعد کہا: "اب آپ بتائیں کہ میں نے کس چیز کا انتخاب کیا ہے؟"
ریسیور شیرازی صاحب کے کان سے لگا ہوا تھا، اس لیے میں دوسری طرف کی آواز نہیں سن سکا، لیکن جواب سن کر شیرازی صاحب کی جو کیفیت ہوئی، اس سے اندازہ ہو گیا کہ انھوں نے صحیح جواب سن لیا ہے۔ ان اک چہرہ سفید ہو گیا اور ریسیور ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا۔ وہ لہراتے ہوئے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر قریب رکھی کرسی پر گر پڑے۔ وہ خلاف توقع جواب سن کر حواس کھو بیٹھے تھے۔ ہم نے ان کے ہاتھ پیر سہلائے، منھ پر پانی کے چھینٹے مارے اور چمچے سے ان کے منھ میں پانی دالا۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آ گئے اور رفتہ رفتہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہو کر صوفے پر نیم دراز ہو گئے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے سوچتے رہے، پھر ہنستے ہوئے مجھ سے بولے: "بھئی، جواب نہیں تمہاری شرط کا۔"
میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان پر ترس آنے لگا: "مجھے ہزار روپے کا کوئی لالچ نہیں ہے، میرے لیے یہی کافی ہے کہ آپ شرط ہار گئے ہیں۔"

وہ بولے: "نہیں نہیں، میں ہزار روپے اسی وقت ادا کر دوں گا، لیکن تمھیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ میں واقعی شرط ہار گیا ہوں۔"
میں چونک گیا اور حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا: "اب بھلا کس قسم کے ثبوت کی ضرورت ہے۔ کیا ان صاحب نے صحیح جواب نہیں دیا تھا؟"
شیرازی صاحب نے کہا: "نہیں، ان کا جواب صحیح تھا، لیکن میں نے ابھی تمھاری شرط کا تجزیہ کیا ہے۔ مین سب کے سامنے اپنے دلائل پیش کروں گا۔ اگر میری بات غلط ثابت ہوئی تو میں اپنی ہار مان کر ہزار روپے ادا کر دوں گا۔"
پھر انھوں نے حاضرین کی طرف دیکھ کر تفصیل سے کہنا شروع کیا: "آپ لوگوں نے غور کیا ہو گا کہ شرط لگنے سے پہلے فون کی گھنٹی بجی تھی۔ نسیم صاحب نے رانگ نمبر کہہ کر فون رکھ دیا تھا۔"
اب ان کا رخ میری طرف تھا: "وہ فون تمھارے کسی دوست کا تھا، جو طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔ تم نے تو فون رکھ دیا، لیکن تمھارے دوست نے ریسیور کان سے لگائے رکھا۔ اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ جب تک فون کرنے والا خود لائن نہ کاٹے رابطہ برقرار رہتا ہے۔ چاہے دوسری طرف ریسیور رکھ ہی کیوں نہ دیا جائے۔ بہرحال رابطہ منقطع نہیں ہوا تھا۔ اب تم نے شرط والا ڈراما رچایا۔ میں نے شرط کے مطابق کبوتر کا ماڈل پسند کیا اور ڈائریکٹری سے ایک نمبر بھی چن لیا جو کسی فضل صاحب کا تھا۔ تم نے منصوبے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ریسیور اٹھایا اور نمبر ملانے سے پہلے مہمانوں کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا تھا کہ حضرت! آپ سب گواہ ہیں کہ شیرازی صاحب نے ٹی وی کے برابر رکھے ہوئے ماربل کے کبوتر کا انتخاب کیا ہے۔ یہی اس ڈرامے کا بنیادی نقطہ ہے۔"
شیرازی صاحب سانس لینے کے لیے رکے اور ایک گلاس پانی پی کر بولے: دوسری طرف تمھارا دوست یہ سب باتیں سن رہا تھا جو تم بلند آواز میں کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد تم نے میرا منتخب کیا ہوا نمبر میرے سامنے ہی گھمایا، لیکن چوں کہ لائن کٹی نہیں تھی، اس لیے نمبر گھمانے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ تم نے چالاکی یہ کی کہ نمبر خود ملایا، اگر میں نمبر ملاتا تو بھانڈا پھوٹ جاتا۔ تم نے نمبر ملانے کے بعد کچھ دیر انتظار بھی کیا جیسے دوسری طرف گھنٹی بج رہی ہو۔ پھر تم نے میرے دیے ہوئے نمبر کے مالک کا نام دہراتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ فضل صاحب بول رہے ہیں؟ مقصد یہ تھا کہ تمھارے دوست کو وہ نام بھی معلوم ہو جائے۔ اس کے بعد تم نے ریسیور مجھے دے دیا۔"
شیرازی صاحب خاموش ہوئے تو میں نے ہلکی سی تالی بجائی: "زبردست، بہت خوب تجزیہ کیا آپ نے۔"

حاضرین کو بھی دلائل وزنی معلوم ہوئے۔ میں نے کہا: "لیکن جب تک آپ ان باتوں کو ثابت نہیں کریں گے، یہ محض آپ کے ذاتی خیالات ہی کہلائیں گے اور یہ تسلیم کیا جائے گا کہ آپ شرط ہار چکے ہیں۔"
شیرازی صاحب نے کہا: "اسے ثابت کرنا بہت آسان ہے۔ اس بار فضل صاحب کا نمبر میں خود ملاؤں گا۔ میں فضل صاحب سے یہی سوال کروں گا۔ ظاہر ہے کہ یہ فضل صاحب تمھارے دوست نہیں ہوں گے، میرا انتخاب اب بھی وہی ہو گا جو پہلے تھا۔ اس بار اگر جواب صحیح دیا گیا تو میں واقعی شرط ہار جاؤں گا اور تسلیم کر لوں گا کہ میرے دلائل غلط تھے۔ اس طرح تم شرط جیت جاؤ گے اور میں اسی وقت تمھیں ساری رقم ادا کر دوں گا۔"
"شیرازی صاحب ! آپ شرط جیت گئے۔ میں اپنی ہار مانتا ہوں۔ لیجیئے، یہ آپ کے ہوئے۔" یہ کہہ کر میں نے ہزار روپے میز پر سے اٹھا کر ان کی طرف بڑھا دیے۔
نزاکت علی نے شیرازی صاحب کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "واقعی' ان کی ذہانت اور حاضر دماغی قابل تعریف ہے۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یہ معما کبھی حل نہ کر پاتا، مگر اس سے تو یہ ثابت ہوتا یے کہ آپ شیرازی صاحب کو بےوقوف بنانے میں ناکام ہو گئے اور ہزار روپے ہار گئے۔"
میں نے ویٹر کو آواز دے کر دوسری مرتبہ چائے کا آرڈر دیا۔ میں نزاکت کی بات کا جواب دینے والا تھا کہ ہارون نے بھی مجھ سے وضاحت چاہی۔ اس نے کہا: "شروع میں آپ نے کسی ایسے واقعے کا ذکر کیا تھا جس میں آپ نے ہزار روپے دے کر ان کی جان بچائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ایسا واقعہ اتفاق سے ہی کبھی ہوتا ہے، لیکن آپ نے ابھی جو کہا ہے اس میں تو ایسا کوئی ذکر نہیں آیا؟"
میں نے کہا: "یہ سوال اپنی جگہ درست ہے، لیکن میں نے جو کہا ہے وہ بھی بالکل ٹھیک ہے۔ دراصل میں نے شیرازی صاحب کی جان ان کی لاعلمی میں بچائی تھی، اگر میں اپنی ہار تسلیم نہ کرتا اور ان کو اسی نمبر پر فون کرنے دیتا تو میرے ہزار روپے یقیناً بچ جاتے، لیکن ان کا ہارٹ فیل ہو جاتا، کیوں کہ اس سے پہلے میں ان کے دل کی حالت کا اندازہ لگا چکا تھا۔"
ان دونوں کے چہروں سے لگ رہا تھا کہ بات کو وپری طرح سمجھ نہیں پا رہے۔ آخر ہارون نے پوچھا: "تو کیا آپ شرط نہیں ہارے تھے؟ کیا شیرازی صاحب کا تجزیہ غلط تھا؟"
میرے جواب دینے سے پہلے ہی نزاکت پوچھنے لگا: "کیا آپ نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر منصوبہ نہیں بنایا تھا؟"
میں نے جواب دینے سے پہلے دونوں کی طرف دیکھا۔ وہ حیرت سے منھ کھولے میرے جواب کے منتظر تھے۔ میں نے ایک بسکٹ توڑ کے منھ میں رکھا اور جواب دینے کے بجائے ان ہی سوالیہ انداز میں کہا: "سنو، شیرازی صاحب نے اپنے دلائل دینے کے بعد تجویز پیش کی تھی کہ شرط کی تمام تفصیل جوں کی توں رکھتے ہوئے یہ نمبر سب کے سامنے میں خود اپنے ہاتھ سے ملاؤں گا۔ یہ سنتے ہی میں نے اپنی ہار تسلیم کر لیل تھی، لیکن انھیں دوبارہ نمبر ملانے نہیں دیا تھا۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ اس مرتبہ بھی شیرازی صاحب کو صحیح جواب ملتا تو کیا ان کا ہارٹ فیل نہ ہو جاتا؟"
دونوں سناٹے میں آ گئے۔ نزاکت نے کہا: " بےشک ایسا ہی ہوتا، اگر حقیقی فضل صاحب بھی وہی جواب دیتے جو آپ کے دوست نے دیا تھا، کیوں کہ ان کا تجزیہ بظاہر مکمل اور درست تھا۔ ان کے نزدیک صحیح جواب ملنے کی ذرہ برابر امید نہیں تھی۔"
میں نے کہا: "بس یہی وجہ تھی کہ میں نے دوبارہ نمبر ملانے نہیں دیا تھا، کیوں کہ انھیں پھر وہی جواب ملتا جو وہ پہلے سن چکے تھے۔ حقیقت یہی ہے کہ انھیں بےوقوف بنانے کے لیے میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا تھا۔ اگر میں شیرازی صاحب کی بات مان کر انھیں نمبر ملانے دیتا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔"
ہارون نے میز پر ہلکے سے ہاتھ مار کر کہا: "لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ اصل فضل صاحب بی وہی جواب دیتے جو آپ کے دوست نے دیا تھا؟"
میں نے کہا: " یہ بات میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ایسا اتفاق شاذونادر ہی ہوتا ہے، شاید لاکھوں میں ایک بار۔ شیرازی صاحب بے ٹیلے فون ڈائریکٹری سے جس نمبر کا انتخاب کیا تھا وہ میرے دوست فضل ہی کا تھا، لہذا انھیں وہی جواب ملتا جو صحیح تھا۔